زندگی کا راز : باہمی اتفاق
الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۶
زندگی کا راز : باہمی اتفاق
"مملکت عربیہ سعودیہ" ابتداء ۱۹۰۲ میں قائم ہوئی۔ عرب ممالک میں عام طور پر بہت جلد جلد حکومتیں بدلتی رہتی ہیں۔ مگر سعودی حکومت کسی انتشار کے بغیر قائم ہے۔ اس کی اس کامیابی کا راز اتحاد ہے۔ چند ماہ پہلے امریکہ کی سی آئی اے نے اپنی حکومت کو ایک رپورٹ دی۔ اس رپورٹ میں " انکشاف " کیا گیا تھا کہ سعودی عرب کے شاہی خاندان میں اندرونی اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے بعد ایک مغربی سفیر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایک سعودی شہزادہ نے کہا: If there is one thing this royal family is agreed on, it is its own survival. We do not survive by fighting each other. اگر کوئی چیز ہے جس پر سعودی عرب کا شاہی خاندان متفق ہے تو یہ اس کا اپنے وجود کو باقی رکھنا ہے۔ اگر ہم آپس میں لڑیں تو ہم اپنے وجود کو باقی نہیں رکھ سکتے۔ (ٹائمز آف انڈیا ۳ نومبر ۱۹۷۹)
زندگی کا یہ راز جس کو عرب کے شاہی خاندان نے جان لیا اگر مسلم قوم میں بھی اس کو جان لیں تو مسلم دنیا اچانک اتنی طاقت در ہو جائے کہ وہ تمام مسئلے خود بخود حل ہو جائیں جن کے لئے قربانیوں پر قربانیاں دی جا رہی ہیں اور وہ کسی طرح حل ہونے میں نہیں آتے۔ کسی مفروضہ دشمن کو مٹانے کے لئے تو مسلمان بار بار متحد ہو جاتے ہیں۔ مگر اسلام کے احیاء اور ملت کی تعمیر کے لئے ان میں اتحاد نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ وہ اتحاد جو مفروضہ دشمن کو مٹانے کے لئے بہت بڑے پیمانے پر وجود میں آگیا تھا وہ دشمن کے مٹتے ہی اچانک ختم ہو جاتا ہے۔ مثبت مقصد کے لئے جب اتحاد نہ ہو سکے تو منفی مقاصد کے لئے اتحاد کی کوئی قیمت نہیں۔ اس قسم کا اتحاد مرض کی علامت ہے نہ کہ صحت مند ہونے کی علامت۔ اگر اصل مقصد "اسلام" ، کو کرسی پر بٹھانا ہو تو کبھی اختلاف پیدا نہیں ہوگا۔ "دشمن اسلام" کے مٹتے ہی لوگ متفقہ طور پر اسلام کو کرسی پر بٹھا کر اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں لگ جائیں گے۔ مگر جب ہر شخص اپنے کو کرسی پر بٹھانا چاہے تو اختلاف پیدا ہونا لازمی ہے۔ کیونکہ کرسی تو ایک ہی ہے۔ پھر سارے لوگ بیک وقت اس پر کیسے بیٹھ سکتے ہیں۔ جاہ طلبی اختلاف پیدا کرتی ہے اور اسلام طلبی اتحاد۔ کسی گروہ میں اتحاد نہ ہو تو اس کی وجہ ہمیشہ کسی نہ کسی قسم کی سطحیت ہوتی ہے۔ لوگ چھوٹے چھوٹے مفادات کو بچانے کی خاطر بڑی اجتماعیت کا جزو نہیں بنتے۔ دس چھوٹے حلقے ہوں تو دس آدمیوں کو صدارت حاصل ہوگی۔ اور اگر ان کو ملا کر ایک حلقہ بنا دیں تو صرف ایک شخص عہدہ حاصل کر سکے گا۔ اس لئے جاہ طلب لوگ اتحاد میں شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اسی طرح کچھ افراد عرصہ تک ایک حلقہ سے جڑے رہیں تو بالا خران کے اندر عصبیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اپنی ہر چیز کے حق میں وہ ایک قسم کا تقدس محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے حلقہ کو عظیم تر اجتماعیت میں ملانے کو ایسا ہی خیال کرنے لگتے ہیں جیسے مقدس کعبہ کو کوئی اپنے ذاتی مکان میں شامل کرنے کی کوشش کرے۔ پھر جو لوگ کسی حلقہ سے وابستہ نہ ہوں ان کی رکاوٹ کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اجتماعیت کو اپنی آزاد زندگی کے لئے بندھن محسوس کرتے ہیں۔ اتحاد بہت بڑی طاقت ہے۔ مگر اتحاد ہمیشہ ذات کی نفی کی قیمت پر قائم ہوتا ہے۔ اور قربانی کی یہ قسم ہمیشہ انسان کے لئے سب سے زیادہ مشکل چیز رہی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues