رسول کی پیروی سے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۸
رسول کی پیروی سے
فتح مکہ کے بعد عرب کے قبائل کثرت سے مسلمان ہوئے۔ مگر یہ لوگ زیادہ تر اسلام کا سیاسی غلبہ دیکھ کر مسلمان ہوئے تھے۔ ان کے اندر وہ ذہنی و فکری انقلاب نہیں آیا تھا جو ابتدائی لوگوں میں آیا تھا۔ اسلام کے بعض احکام، خاص طور پر زکوٰۃ ان کی آزادانہ زندگی کے لئے ناقابل برداشت معلوم ہونے لگی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے چند ماہ پہلے یمن اور نجد کے علاقوں میں ان کے درمیان ایسے لیڈر ابھرے جو اسلام کا ایسا تصور پیش کرتے تھے جس میں زکوٰۃ کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ ان لیڈروں، مثلاً اسود اور مسیلمہ نے اپنی بات کو خدا کی بات ثابت کرنے کے لئے نبوت کا دعویٰ کر دیا، تا کہ جس الہامی زبان میں زکوٰۃ کو فرض کیا گیا ہے اسی الہامی زبان میں اس کی فرضیت کو ساقط کیا جا سکے۔ اس قسم کی ”نبوت“ ان قبائل کی پسند کے عین مطابق ہوئی جو زکوٰۃ کو اپنے اوپر ایک بوجھ خیال کرتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے جوق در جوق ان جھوٹے مدعیان نبوت کا ساتھ دینا شروع کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ان لوگوں کا حوصلہ اور بڑھا اور یہ فتنہ تیزی سے پھیلنے لگا۔ حتیٰ کہ یہ حال ہوا کہ مکہ، مدینہ اور طائف کے سوا تمام عرب میں بیشتر لوگ باغی ہو گئے۔ اسی کے ساتھ یہ خبریں بھی پھیلنے لگیں کہ یہ لوگ منظم ہو کر مدینہ پر حملہ کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانہ میں جو کام کئے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ نے اسامہ بن زید کی قیادت میں ایک لشکر تیار کیا اور اس کو حکم دیا کہ وہ رومیوں کے مقابلہ کے لئے شام کی طرف جائے جہاں اس سے پہلے موتہ کے مقام پر رومیوں کے والد حضرت زید کو شہید کیا تھا۔ یہ لشکر روانہ ہو کر ابھی مدینہ کے باہر پہنچا تھا کہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ملی اور وہ خلیفہ اول کے حکم کے انتظار میں وہیں ٹھہر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت صدیق اکبر نے اس لشکر کو آگے روانہ کرنا چاہا تو بیشتر صحابہ نے اختلاف کیا۔ انھوں نے کہا کہ سارا عرب باغی ہو رہا ہے اور کسی بھی وقت مدینہ پر حملہ ہو سکتا ہے۔ ایسی حالت میں لشکر کو مدینہ کے دفاع کے لئے یہاں رکھنا چاہئے نہ کہ ایسے نازک موقع پر اس کو دور بھیج دیا جائے۔ مگر حضرت ابو بکر صدیق نے ایسی کسی رائے کو ماننے سے شدت کے ساتھ انکار کر دیا۔
تمام بڑے صحابہ اسامہ بن زید رض کی سرداری میں مدینہ کے باہر جمع تھے۔ اس وقت لوگوں کے اندر دو باتیں بحث کا موضوع بنی ہوئی تھیں ۔ ایک یہ کہ اتنے نازک موقع پر اسلامی لشکر کا مدینہ سے دور
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues