ابراہیم کو ایثار
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۷
لئے زمین و آسمان رک گئے ۔ بوڑھا باپ اپنے محبوب بیٹے کو خود اپنے ہاتھوں سے ذبح کر رہا تھا۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے عین وقت پر مداخلت کر کے حضرت اسماعیل کو ذبح ہونے سے بچالیا۔ ۔ آسمان سے آواز آئی کہ بس تم نے تسلیم و وفاداری کا آخری ثبوت دے دیا۔ بیٹے کے بدلے میں اللہ نے آپ کی طرف سے مینڈھے کی قربانی قبول کرلی۔ اس کے بعد یہ طریقہ مستقل طور پر تمام خدا پرستوں کے لئے مقرر کر دیا گیا۔ حکم ہوا کہ آدمی اپنی قربانی کے علامتی فدیہ کے طور پر ہر سال انھیں تاریخوں میں جانور ذبح کرے جن تاریخوں میں حضرت ابراہیم خدا کے حکم کی تعمیل میں اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے ۔
حضرت ابراہیم کو جو خواب دکھایا گیا اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ آپ اپنے عزیز بیٹے کو دعوت توحید کے مرکز (بیت اللہ) کی خدمت کے لئے وقف کر دیں۔ اسی غرض سے حکم ہوا تھا کہ اسماعیل اور ان کی والدہ کو لے جاکر مکہ کی خشک اور سنسان زمین پر بسا دو۔ مگر اس بات کو چھری سے ذبح کرنے کی صورت میں تمثیل کیا گیا۔ اس سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ دین کی خدمت کوئی معمولی چیز نہیں ہے، یہ اپنے آپ کو جیتے جی ذبح کرنا ہے۔ "ذبح" ایثار و قربانی کی آخری انتہا ہے اور ایثار و قربانی کی آخری انتہا پر پہنچ ہی آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ خدا کے دین کی خدمت کر سکے۔
حضرت ابراہیم کا ایثار صرف یہ نہ تھا کہ آپ نے اپنے بیٹے کو خدا کی راہ میں قربان کر دیا۔ بیٹے کی قربانی تو ایثار و قربانی کے لمبے سلسلے کی صرف آخری صورت تھی ۔ آپ کا ایثار یہ تھا کہ ایسے وقت میں جب کہ لوگ صرف دکھائی دینے والے خداؤں کے لئے اپنی محبتیں اور عقیدتیں وقف کر رہے تھے ، آپ نے نہ دکھائی دینے والے خدا کو اپنی محبت و عقیدت کا مرکز بنایا ۔ ایسے حالات میں جب کہ ناحق ہر طرح کے مادی دلائل کے زور پر اپنی اہمیت ثابت کر رہا تھا ، آپ نے ایک ایسے حق کو پہچانا اور اس کو قبول کر لیا جس کی تائید میں صرف ذہنی دلائل قائم ہو سکتے تھے۔ ایسی فضا میں جب کہ باطل کے ساتھ مصالحت کرنے میں آپ کے لئے عزت و ترقی کے دروازے کھلے ہوئے تھے ، آپ نے محض سچائی کی خاطر ایک ایسے غیر مصالحانہ راستہ کو اختیار کر لیا جس میں سختیوں اور مشکلات کے سوا کچھ نہ تھا۔ ایسے ماحول میں جب کہ لوگ متمدن شہروں میں اقامت کو پسند کر رہے تھے ، آپ نے ایک خشک بیابان میں لے جاکر اپنے گھر والوں کو بسا دیا۔ یہ سب کچھ غیر معمولی ایثار و قربانی کے جذبہ کے تحت ہوا۔ ایثار و قربانی کی نفسیات کے بغیر ان میں سے کوئی کام بھی نہیں ہو سکتا تھا ۔ خدا پرست بننا اپنے کو ذبح کرنے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے کو ذبح کرنے پر تیار نہ ہو وہ خدا پرست بھی نہیں بن سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues