Al-Risala · December 1980 · page 22

اللہ کی راہ میں خرچ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۲

تذکیر القرآن الانعام - ۶ کہو، کون تم کو نجات دیتا ہے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے، تم اس کو پکارتے ہو عاجزی سے اور چپکے چپکے کہ اگر خدا نے ہم کو نجات دے دی اس مصیبت سے تو ہم اس کے شکر گزار بندوں میں سے بن جائیں گے۔ کہو، خدا ہی تم کو نجات دیتا ہے اس سے اور ہر تکلیف سے ، پھر بھی تم شرک کرنے لگتے ہو۔ کہو، خدا قادر ہے اس پر کہ تم پر کوئی عذاب بھیج دے تمھارے اوپر سے یا تمھارے پیروں کے نیچے سے یا تم کو گروہ گروہ کر کے ایک کو دوسرے کی طاقْت کا مزہ چکھا دے۔ دیکھو، ہم کس طرح مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں۔ اور تمھاری قوم نے اس کو جھٹلا دیا ہے حالاں کہ وہ حق ہے۔ کہو، میں تمھارے اوپر داروغہ یں ہوں۔ ہر خبر کے لیے ایک وقت مقرر ہے اور تم جلدی جان لو گے ۔ ۶۳ - ۶۷ انسان کو اس دنیا میں جتنی مصیبتیں پیش آتی ہیں اتنی کسی بھی دوسرے جان دار کو پیش نہیں آتیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے تاکہ آدمی پر ایسے حالات طاری کئے جائیں جب کہ اس کے اندر سے تمام مصنوعی خیالات ختم ہو جائیں اور آدمی اپنی اصل فطرت کو دیکھ سکے۔ چنانچہ جب کبھی آدمی پر کوئی کڑی مصیبت پڑتی ہے تو وہ یک سو ہو کر خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کے ذہن سے تمام بناوٹی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس دنیا میں انسان تمام تر عاجز ہے اور ساری قدرت صرف خدا کو حاصل ہے۔ مگر جیسے ہی مصیبت کے حالات ختم ہوتے ہیں وہ بدستور غفلت کا شکار ہو کر ویسا ہی بن جاتا ہے جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ شرک کی اصل حقیقت اللہ کے سوا کسی دوسری چیز پر اعتماد کرنا ہے اور توحید یہ ہے کہ آدمی کا سارا اعتماد اللہ پر ہو جائے۔ شرک کی ایک صورت یہ ہے جو بتوں اور دوسرے مظاہرِ پرستش کے ساتھ پیش آتی ہے۔ مگر شکر کے بجائے ناشکری کا رویہ اختیار کرنا بھی شرک ہے۔ شرک کی زیادہ عام صورت یہ ہے کہ آدمی خود اپنے کو بت بنائے ، وہ اپنے آپ پر اعتماد کرنے لگے۔ آدمی جب اکڑ کر چلتا ہے تو گویا وہ اپنے جسم و جان پر اعتماد کر رہا ہے آدمی جب اپنی کمائی کو اپنی کمائی سمجھتا ہے تو گویا وہ اپنی قابلیت پر بھروسہ کر رہا ہے۔ آدمی جب ایک حق کو نظر انداز نہ کرتا ہے تو گویا وہ سمجھتا ہے کہ میں جو بھی کروں، کوئی میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ آدمی جب کسی کے اوپر ظلم کرنے میں جری ہوتا ہے تو اس وقت اس کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ میں اس کے اوپر اختیار رکھتا ہوں ، اس کے حق میں اپنی من مانی کرنے سے مجھے کوئی روکنے والا نہیں ۔ یہ ساری صورتیں گھمنڈ کی صورتیں ہیں اور گھمنڈ خدا کے نزدیک سب سے بڑا شرک ہے۔ کیونکہ یہ اپنے آپ کو خدا کے مقام پر رکھنا ہے۔

آدمی اگر اپنے حال پر سوچے تو وہ گھمنڈ نہ کرے ۔ وہ ایسی ہواؤں سے گھرا ہوا ہے جو کسی بھی وقت طوفان کی صورت اختیار کر کے اس کی زندگی کو تہس نہس کر سکتی ہیں ، وہ ایسی زمین پر کھڑا ہوا ہے جو کسی بھی لمحہ زلزلہ کی صورت میں پھٹ سکتی ہے۔ وہ جس سماج میں رہ رہا ہے اس میں ہر وقت اتنی عداوتیں موجود رہتی ہیں کہ ایک چنگاری پورے سماج کو خاک وخون کے حوالے کرنے کے لئے کافی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues

Printed page