اللہ کی راہ میں خرچ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۳
تذکیر القرآن الانعام اور جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں میں عیب نکالتے لیں تو ان سے الگ ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں ۔ اور اگر کبھی شیطان تم کو بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ایسے بے انصاف لوگوں کے پاس نہ بیٹھو۔ اور جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان پر ان کے حساب میں سے کسی چیز کی ذمہ داری نہیں، البتہ یاد دلانا ہے شاید کہ وہ بھی ڈریں۔ ان لوگوں کو چھوڑ جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے اور جن کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ اور قرآن کے ذریعہ نصیحت کرتے رہو تاکہ کوئی شخص اپنے کئے میں گرفتار نہ ہو جائے، اس حال میں کہ اللہ سے بچانے والا کوئی مددگار اور سفارشی اس کے لئے نہ ہو۔ اگر وہ دنیا بھر کا معاوضہ دے تب بھی قبول نہ کیا جائے۔ یہی لوگ ہیں جو اپنے کیے میں گرفتار ہوگئے ۔ ان کے لئے کھولتا پانی پینے کے لئے ہوگا اور درد ناک سزا ہوگی اس لئے کہ وہ کفر کرتے تھے۔ ۶۸ - ۷۰ عبد اللہ بن عباس رض نے فرمایا کہ اللہ نے ہر امت کے لئے ایک عید کا دن مقرر کیا تاکہ اس دن وہ اللہ کی بڑائی کریں اور اس کی عبادت کریں اور اللہ کی یاد سے اس کو معمور کریں۔ مگر بعد کے لوگوں نے اپنی عید (مذہبی تہوار) کو کھیل تماشا بنا لیا (تفسیر کبیر)
ہر دینی عمل کا ایک مقصد ہوتا ہے اور ایک اس کا ظاہری پہلو ہوتا ہے۔ عید کا مقصد اللہ کی بڑائی اور اس کی یاد کا اجتماعی مظاہرہ ہے۔ مگر عید کی ادائیگی کے کچھ ظاہری پہلو بھی ہیں، مثلاً کپڑا پہننا یا اجتماع کا سامان کرنا وغیرہ۔ اب عید کو کھیل تماشا بنایا ہے کہ اس کے اصل مقصد پر توجہ نہ دی جائے، البتہ اس کے ظاہری اور مادی پہلوؤں کی خوب دھوم مچائی جائے ۔ مثلاً کپڑوں اور ساماناروں کی نمائش، خرید و فروخت کے ہنگامے ، تفریحات کا اہتمام، اپنی حیثیت اور شان و شوکت کے مظاہرے، وغیرہ۔
امتوں کے بگاڑ کے زمانہ میں یہی معاملہ تمام دینی اعمال کے ساتھ پیش آتا ہے۔ لوگ دینی عمل کی اصل حقیقت کو الگ کرکے اس کے ظاہری پہلو کو لے لیتے ہیں۔ اب جو لوگ اس نوبت کو پہنچ جائیں کہ وہ دین کے مقصدی پہلو کو بھلا کر اس کو اپنے دنیوی تماشوں کا عنوان بنالیں وہ اپنے اس عمل سے ثابت کر رہے ہیں کہ وہ دین کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہیں اور جو لوگ کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں ان کو اس معاملہ کی کوئی ایسی بات سمجھائی نہیں جاسکتی جو ان کے مزاج کے خلاف ہو۔ مزید یہ کہ مادی چیزوں کا مالک ہونا ان کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیتا ہے کہ سچائی کے مالک بھی وہی ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ یہاں ان کی ضرورتیں بظرافت پوری ہو رہی ہیں۔ ہر جگہ وہ رونق محفل بنے ہوئے ہیں۔ ان کی زندگی میں کہیں کوئی رخنہ نہیں۔ اس لئے وہ سمجھ لیتے ہیں کہ آخرت میں بھی وہی کامیاب رہیں گے۔ ایسے لوگ عین اپنی نفسیات کی بنا پر آخرت کی باتوں کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ مگر وہ جان ہیں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ یوں ہی ختم ہو جانے والا نہیں۔ ان کا عمل ان کو گھیرے میں لے رہا ہے۔ عنقریب وہ اپنی سرکشی میں پھنس کر رہ جائیں گے اور کسی حال میں اس سے چھٹکارا نہ پاسکیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues