ساری تعریف اللہ کے لئے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۱
ساری تعریف اللہ کے لئے
ایک درخت ایک بے حد با معنی واقعہ ہے مگر اس کو اپنی معنویت کا شعور نہیں۔ ایک پھول نفاست اور لطافت کا شاہکار ہے مگر کوئی پھول اپنی اس خصوصیت کو نہیں جانتا، ایک چڑیا بے حد حسین وجود ہے مگر کسی چڑیا کو اپنے حسن کا احساس نہیں۔ یہی حال دنیا کی تمام چیزوں کا ہے، دنیا کی ہر چیز حسین ترین آرٹ کا انتہائی کامل نمونہ ہے۔ مگر کسی چیز کو بھی اپنی اس حیثیت کا کوئی علم نہیں ۔
پھر حسن و لطافت کی یہ نمائش گاہ کس کے لئے سجائی گئی ہے۔ یہ انسان کے لئے ہے۔ تمام معلوم کائنات میں انسان ہی واحد مخلوق ہے جو کسی چیز کے حسن کو دیکھتا ہے اور اس کی خوبیوں کو محسوس کرکے اس کی داد دے سکتا ہے۔ خدا نے دنیا کی صورت میں ایک حسین آرٹ بنایا اور انسان کو اس کی پرکھ دے کر اس کو زبان عطا کی تاکہ وہ خدا کی حسین تخلیق کو دیکھ کر جھوم اٹھے اور اپنی زبان سے اس کے خالق کو خراج تحسین پیش کرے ۔ اسی کا نام حمد یا خدا کی تعریف ہے۔ حمد انسان کے اعلیٰ ترین جذبات کا وہ نذرانہ ہے جو خدا کے سامنے پیش ہونے کے لئے انسانی الفاظ میں ڈھل جاتے ہیں ۔
حمد یہ ہے کہ ایک شخص دنیا میں خدا کی کاریگری کو دیکھے، وہ اس کے کمالات کو محسوس کرکے تڑپ اٹھے۔ اور پھر اس کی زبان سے بے تابانہ نکل پڑے کہ خدایا، ساری تعریف تیرے لئے ہے۔ تو پاک اور برتر ہے، خدایا تو مجھے اقرار کرنے والوں میں لکھ لے اور مجھ کو ان لوگوں نہ بنا جن کو تو اندھی حالت میں اٹھائے گا، کیونکہ انھوں نے تیرے حسن کو نہیں دیکھا، کیونکہ انھوں نے تیرے کمالات کا اعتراف نہیں کیا ۔ اللہ کو چلتے پھرتے اور اٹھتے بیٹھتے اس طرح یاد کرنے کا نام حمد ہے، خواہ کہنے والا اپنے کلمات کو عربی زبان میں کہے یا کسی دوسری زبان میں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues