اسلامی زندگی
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۰
اسلامی زندگی
اسلام کا خلاصہ دو لفظوں میں یہ ہے ــــــ اللہ کا ڈر اور بندوں کی خیر خواہی ۔ مسلمان وہ ہے جو اس حقیقت کو پالے کہ ساری طاقتیں صرف اللہ کے پاس ہیں اور انسان اس کے مقابلہ میں صرف ایک عاجز مخلوق ہے ۔ دنیا میں بظاہر آدمی کو جو اختیار ملا ہوا ہے وہ صرف امتحان کے لئے ہے ۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی خدا غیب کے پردے کو ہٹا دے گا ۔ اس وقت خدا کی خدائی اور اس کے مقابلہ میں انسان کی بے بسی اس طرح کھل جائے گی کہ آدمی باطل ٹھہر پڑے گا۔ اس دن وہ حقیقتوں کو اس طرح دیکھے گا کہ ان کو مانے بغیر اس کے لئے چارہ نہ ہوگا۔
مسلمان وہ ہے جو اس آنے والے دن کو اس کے آنے سے پہلے دیکھ لے۔ ایسا شخص دنیا میں اس طرح رہنے لگتا ہے جیسے وہ خدا کو اپنے اوپر نگرانی کرتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ وہ جب زبان کھولتا ہے تو اس کا ایمان اس کی زبان پکڑ لیتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ بولو تو حق بات بولو ورنہ چپ رہو۔ وہ جب چلنا چاہتا ہے تو خدا کا خوف اس کے سامنے آکر کھڑا ہو جاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ چلو تو صحیح سمت میں چلو ورنہ اپنے قدموں کو چلنے سے روک لو۔ اس کا یہ احساس کہ خدا اس کو دیکھ رہا ہے اس کے اوپر نگراں بن کر چھا جاتا ہے۔ وہ وہی کرتا ہے جس سے خدا راضی ہو۔ اور جس چیز سے خدا راضی نہ ہو اس کے کرنے کی اسے بہت نہیں ہوتی۔ ایسے آدمی کے دل میں بندوں کے لئے خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ وہ بندوں کو اسی مہربانی کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے جس نظر سے ان کا خدا انھیں دیکھ رہا ہے وہ بندوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں اپنے آپ کو اسی بے لاگ انصاف کے ترازو پر کھڑا کر دیتا ہے جس بے لاگ انصاف کے ترازو پر کائنات کا خالق و مالک آخر کار سب کو کھڑا کرنے والا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues