Al-Risala · December 1980 · page 45

نتیجہ پسند بنئے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴۵

نتیجہ پسند بنئے

ایک شخص زمین کی قوت کشش کا مطالعہ کر رہا ہے۔ اسی کے سامنے درخت کا معاملہ آتا ہے ۔ وہ دیکھتا ہے کہ درخت کی جڑیں زمین میں نیچے کی طرف چلی جا رہی ہیں۔ وہ فوراً رائے قائم کر لیتا ہے کہ جڑوں کا نیچے کی طرف جانا زمین کی کشش کی وجہ سے ہے۔ پھر اس کا ذہن دوسرے پہلو کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ درخت کا تنا اور اس کی شاخیں اوپر کی طرف اٹھ رہی ہیں " درخت کی جڑیں اگر زمین کی کشش کی وجہ سے نیچے کی طرف جاتی ہیں تو اسی درخت کی شاخیں اوپر کی طرف کیوں اٹھتی ہیں" یہ سوال اس کے ذہن کو حیرانی میں ڈال دیتا ہے ۔

ہر سائنس داں کو اپنی تحقیق کے دوران اس قسم کے سوالات سے سابقہ پیش آتا ہے جو اس کو سرگشتی میں ڈالنے والا ہو۔ ایسے موقع پر سائنس داں کیا کرتا ہے۔ وہ یہ کرتا ہے کہ یا تو " شاخوں " کے اوپر کی طرف اٹھنے کے سوال کو اپنی تحقیق سے غیر متعلق سمجھ کر حذف کر دیتا ہے ۔ یا وہ ایسا کرتا ہے کہ کوئی کام چلاؤ (Workable) مفروضہ قائم کر کے دیگر سوالات کو اس کے خانے میں ڈال دیتا ہے اور اپنی تحقیق کے براہ راست کام کو جاری رکھتا ہے۔ اگر سائنس داں ایسا نہ کرے تو اس کی تحقیق کبھی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتی۔ موجودہ دنیا میں کسی مفید نتیجہ تک پہنچنے کا یہی واحد علمی طریقہ ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جو ہمارے تمام قیاس و گمان سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ اس کو جاننے کے لئے ہماری صلاحیتیں انتہائی محدود ہیں۔ ہم حقیقتوں کو صرف جزئی طور پر ہی جان سکتے ہیں۔ اس لئے ہر حقیقت پسند آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ نتیجہ کو سامنے رکھتا ہے نہ کہ تفصیلات کو۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر میں تمام تفصیلات کو اس کی آخری حد تک متعین کرنا چاہوں تو ایسا ممکن نہ ہوگا اور میں کبھی کامیابی تک نہ پہنچ سکوں گا۔

دین کے معاملے میں بھی صحیح طریقہ یہی ہے۔ جو لوگ دین کو علمی طریق پر سمجھنا چاہتے ہیں ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہاں بھی وہ اس علمی طریقہ کو اختیار کر کے کامیاب ہو سکتے ہیں جو دوسرے علمی شعبوں میں اختیار کیا جاتا ہے۔ یعنی اپنی محدودیت کو تسلیم کرنا اور غیر ضروری بحثوں کو حذف کرتے ہوئے ایک نتیجہ پسند انسان کی طرح اپنی تلاش کو آگے لے جانا۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ دین کو اس وقت مانیں گے جب کہ وہ تمام عقلی سوالات کا تشفی بخش جواب دیدے۔ وہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ اس قسم کا رویہ قطعا غیر علمی ہے۔ دین کے علاوہ چیزوں میں کوئی بھی مکمل تشفی کی شرط نہیں لگاتا، پھر دین ہی کے معاملہ میں ایسی شرط کیوں ضروری ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues

Printed page