Al-Risala · December 1980 · page 36

دلیل کی بے تاثیری

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۶

دلیل کی بے تاثیری

میلووان جیلاس [Miloan Dilas] یوگوسلاویہ کی کمیونسٹ پارٹی کے صدر تھے۔ یوگوسلاویہ میں اشتراکی حکومت بنی تو ان کو حکومت میں ایک بڑا عہدہ ملا۔ مگر روس میں اشتراکیت کے تجربہ سے ان کو سخت مایوسی ہوئی۔ انھوں نے اشتراکی سماج کی صورت میں ایک ایسے سماج کا خواب دیکھا تھا جس میں طبقات ختم ہو گئے ہوں اور یکساں حالات میں ہر ایک کو زندگی گزارنے کا موقع ملے۔ مگر روس میں اشتراکی انقلاب آیا تو وہاں شدید ترانداز میں ایک نئی طبقاتی تقسیم قائم ہوگئی۔ ایک حکمراں طبقہ، دوسرا غیر حکمراں طبقہ۔ دونوں طبقات میں اس سے بھی زیادہ بڑا فریق تھا جو سرمایہ دارانہ نظام میں یا شہنشاہی دور میں پایا جاتا تھا۔ اشتراکی انقلاب صرف ایک نئے شدید تر طبقہ کی پیدائش کے ہم معنی بن کر رہ گیا۔ اب ان کے ضمیر نے احتجاج کیا اور انھوں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام تھا نیا طبقہ (نیوکلاس) ۱۹۵۶ میں یہ کتاب شائع ہوئی تو ساری دنیا میں ایک ہل چل مچ گئی۔ اس کے لاکھوں نسخے فروخت ہو گئے۔ ریڈرز ڈائجسٹ نے اس پر تعارفی مضمون شائع کیا تو اس کا عنوان اس نے ان لفظوں میں قائم کیا :

The Book That Is Shaking The Communist world

(وہ کتاب جس نے کمیونسٹ دنیا کو ہلا دیا ہے) مگر ہم جانتے ہیں کہ عملاً جو کچھ ہوا وہ یہ کہ میلووان جیلاس جیل میں پڑے پڑے مر گئے اور کمیونسٹ دنیا بدستور اپنی شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے ۔

اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ میلووان جیلاس ناحق پر تھے اور کمیونسٹ دنیا حق پر۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ میلووان جیلاس کے پاس لفظی استدلال کی طاقت تھی۔ جب کہ کمیونسٹ دنیا سیاسی اور اقتصادی قوتوں سے مسلح ہے۔ جب بھی دو فریقوں میں اس قسم کا فرق ہو تو خواہ صداقت تمام تر فرق اول کی طرف کیوں نہ ہو، وہ عملی دنیا میں بے وزن ہو جاتا ہے اور کامیابی اس کو ملتی ہے جس نے مادی طاقتوں کا زور اپنے پاس جمع کر لیا ہو۔ انسان کا ضمیر سب سے زیادہ جس چیز کو وزن دیتا ہے وہ دلیل ہے۔ انسان کی پوری اندرونی ہستی کا تقاضا ہے کہ جو بات دلیل سے ثابت ہو جائے وہ حق ٹھہرے اور جس بات کے پیچھے دلیل نہ ہو وہ ناحق قرار پائے اس کو دنیا میں کوئی جگہ نہ ملے۔ مگر موجودہ دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے موجودہ نظام میں دلیل کے اندر کوئی ذاتی طاقت نہیں۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ ایک شخص دلیل کے اعتبار سے بالکل خالی ہو کر خوبصورت الفاظ کا دریا بہا سکے۔ استدلالی جواز نہ رکھتے ہوئے بھی وہ زمین پر کھڑا ہونے کی کوئی بنیاد پائے۔ دلیل سے محروم ہونے کے باوجود وہ محض طاقت کے زور پر دنیا میں اپنی جگہ حاصل کرلے۔ انسان کے ضمیر اور واقعہ میں یہ تضاد بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا نا مکمل ہے۔ انسانی عقل اور انسانی ضمیر کے مطابق مکمل دنیا وہ ہوگی جہاں دلیل ہی سب کچھ ہو۔ اور بے دلیل ہونا اور بے قیمت ہونا دونوں ہم معنی

‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues

Printed page