The Book That Is Shaking The Communist world
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۷
کہ جو کچھ ہے اور جو کچھ ہونا چاہئے کا فرق ختم ہو جائے۔ انسان کا ضمیر جو کچھ چاہتا ہے وہی عملاً بھی دنیا میں قائم ہو جائے۔
آخرت اسی قسم کی ایک دنیا کا نام ہے۔ آخرت وہ مقام ہے جہاں دلیل اور معقولیت ہی کا نام طاقت ہوگا اور بے دلیل اور غیر معقول ہونا بے ہاقتی کے ہم معنی بن جائے گا۔ عزت اور سرفرازی صرف اس کو ملے گی جو حق کی زمین پر کھڑا ہو اور وہ شخص ذلیل اور حقیرون جائے گا جو نامعقولیت کے سہارے اپنا کاروبار چلا رہا تھا۔ "کیا ہے" اور "کیا ہونا چاہئے" کا یہ تضاد صرف انسانی زندگی میں پایا جاتا ہے۔ بقیہ تمام کائنات اس قسم کے تضاد سے بالکل خالی ہے۔ زمین و آسمان کا پورا نظام ٹھیک اسی طرح چل رہا ہے جیسا کہ اسے چلنا چاہئے، سورج اس صحیح ترین مقدار میں روشنی اور حرارت پہنچاتا ہے جو انسان کو درکار ہے۔ پانی اور ہوا میں گیسوں کا تناسب عین ہماری ضرورت کے مطابق ہے۔ درخت ٹھیک اس فطرت پر اگتے اور بڑھتے ہیں جو ان کے لئے مقرر ہے۔ شہد کی مکھیاں فطرت کے عین نقشہ کے مطابق اپنا غذائی کارخاوہ چلاتی ہیں۔ غرض کائنات کا ہر جزو انتہائی معیاری صورت میں اپنا کام انجام دے رہا ہے۔ یہ صرف انسان ہے جس کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان ایک مکمل طور پر معیاری دنیا میں ایک مکمل طور پر غیر معیاری طریقہ اپنائے ہوئے ہے۔ دوسری طرف یہ کہ جو رویہ دنیا میں ہر چیز پابند ہے۔ یہ صرف انسان ہے جو یہاں خود مختار حیثیت رکھتا ہے۔ ان دونوں حقیقتوں کو سامنے رکھے تو اس صورت حال کی سب سے زیادہ قابل فہم توجیہہ یہ بنتی ہے کہ موجودہ بقیہ کائنات سے مجبورانہ طور پر مطلوب ہے اسی رویہ کا ثبوت انسان کو آزادانہ طور پر دینا ہے۔ بقیہ کائنات کی فلاح یہ ہے کہ وہ محکومیت کی بنا پر محکوم رہے اور انسان کی فلاح یہ ہے کہ وہ آزاد ہوتے ہوئے خود اپنے ارادہ سے اپنے کو خدا کا محکوم بنا لے۔
حق آدمی کے سامنے "دلیل" کی صورت میں آتا ہے، آدمی اس کو ٹھکرا دیتا ہے، بے معنی الفاظ بول کر وہ اسے رد کر دیتا ہے۔ اس کے باوجود آدمی کا کچھ نہیں بگڑتا۔ اس کے معاملات اور کاروبار میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔ یہ صورت حال آدمی کو غلط فہمی میں ڈال دیتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ حق اور ناحق کا معاملہ کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں ہے۔ زندگی میں اصل چیز مفادات اور مصالح ہیں اور مفاد اور مصلحت اگر محفوظ ہے تو کسی پریشانی میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ مگر یہ سب سے بڑا دھوکہ ہے جس میں کوئی انسان مبتلا ہوتا ہے۔ مفاد اور مصلحت تو وہ حالات ہیں جن میں کسی کا امتحان کیا جا رہا ہے نہ کہ وہ نتیجہ جو امتحان کی بنیاد پر کسی کو ملنے والا ہے۔ اس طالب علم سے زیادہ نادان کون ہوگا جو امتحان کے پرچہ کو اپنے "قبضہ" میں پا کر خوش ہو جائے اور یہ نہ سوچے کہ نہ اس پرچہ کے حل کے بارے میں کس قسم کی اہلیت کا ثبوت اپنے ممتحن کے سامنے پیش کر رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues