انفاق
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴۴
اور فضل کا۔ اور اللہ بہت وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے اور جس کو حکمت ملی اس کو بہت بڑی خوبی مل گئی ، اور نصیحت وہی قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں (بقره ۴۹ - ۴۱) آخرت کی بہتر چیز دنیا کی بہتر چیز کی قیمت ہے۔ دنیا میں جب آدمی اپنی سب سے بہتر چیز کو اللہ کے لئے خرچ کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ اس قابل بنتا ہے کہ وہ آخرت کی سب سے بہتر چیز کو پانے کا حق دار بن سکے۔ دنیا میں آدمی کی سب سے زیادہ محبوب چیز مال ہے۔ جب تک ایسا نہ ہو کہ وہ خالص خدا کے لئے اپنے محبوب مال کو خرچ کرے، وہ خدا کی رحمتوں کا مستحق نہیں ہو سکتا۔
جو آدمی اپنے کمائے ہوئے مال کو بچاتا ہے یا اس کو اپنی دنیا بنانے میں لگاتا ہے وہ بظاہر سمجھتا ہے کہ میں ہوشیاری کر رہا ہوں، میں اپنے مستقبل کو محفوظ کر رہا ہوں ۔ حالانکہ اصل صورت حال اس کے برعکس ہے۔ آدمی اگر موت کے پردہ کو ہٹا دے اور پورے دائرہ حیات کے اعتبار سے اپنے معاملہ کو دیکھے تو اس کو معلوم ہوگا کہ دنیا میں اپنا گھر بنا کر وہ آخرت کے طویل تر مرحلہ حیات میں اپنے کو بے گھر کر رہا ہے۔ وہ اپنے کو اس خطرہ میں مبتلا کر رہا ہے کہ دنیا میں اس کی مال داری آخرت میں اس کے لئے بد ترین مفلسی بن کر اس سے لپٹ جائے ۔ کیوں کہ آخرت میں جو کچھ کام آئے گا وہ دیا ہوا مال ہے نہ کہ دنیا میں جمع کیا ہوا مال۔
دنیا میں اللہ نے ایسی مثالیں قائم کردی ہیں جن سے آخرت کے معاملہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔ کسان کھیت میں دانہ ڈالتا ہے تو ایک دانہ ایسے پودے کی صورت اختیار کرلیتا ہے جس میں سات سو دانے ہوں ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا کسی بندے کی محنت کا بدلہ دینے میں کتنا زیادہ فیاض ہے۔ یہی معاملہ وہ آخرت میں بھی اپنے وفادار بندوں کے ساتھ کرے گا ۔ اللہ کے لئے خرچ کرنا گو یا آخرت کی زمین میں ” دانہ“ ڈالنا ہے۔ جب آدمی مر کر وہاں پہنچے گا تو وہ دیکھے گا کہ اس کا خرچ کیا ہوا مال کس طرح بے انتہا اضافہ کے ساتھ اس کی طرف لوٹایا جا رہا ہے۔
خرچ کرنے والوں کی بقیہ قسموں کی مثالیں بھی اسی دنیا میں موجود ہیں۔
جو لوگ اپنا مال ” دکھاوے “ کے لئے خرچ کرتے ہیں یعنی بظاہر ان کا خرچ دین کی کسی مد میں ہوتا ہے مگر اس دینی مدد سے انہیں صرف اس لئے دلچسپی ہوتی ہے کہ اس میں نمائش کا پہلو ہے اور اس سے ان کی شہرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ دین کی خاموش مدد جس میں خدا کی رضا کے سوا کوئی اور پہلو نہ ہو اس میں وہ خرچ نہیں کرتے ۔ البتہ ایسی مدد جس میں شہرت وعزت کی چاشنی ہو اس میں خرچ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ ایسے نمائشی لوگوں کی مثال اس پتھر کی سی ہے جس کے اوپر اتفاقاً کچھ مٹی جمع ہو جائے اور اس کی وجہ سے وہاں اوپر اور پر کچھ سبزہ اگ آئے۔ مگر جب تیز بارش آتی ہے تو ایسی مٹی سبزہ کو لئے ہوئے بہہ جاتی ہے اور اس کے بعد پتھر کا پتھر باقی رہتا ارسال (دسمبر ۱۹۸۰)
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues