انفاق
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴۵
ہے، اسی طرح جو لوگ نمائشى جذبہ کے تحت خرچ کرتے ہیں ان کا معاملہ موجودہ استحقاق دنیا میں چھپا رہ سکتا ہے۔ مگر آخرت میں جب حقیقت سے پردہ اٹھایا جائے گا تو ان کی نمائشى دین داری اچانک غائب ہو جائے گی اور وہ دھلے ہوئے پتھر کی طرح دین سے بالکل خالی نظر آنے لگیں گے۔
جو لوگ اپنی ساری کمائی صرف دنیا کی تعمیر میں لگاتے ہیں ان کے انجام کی مثال بھی اسی دنیا میں دیکھی جاتی ہے۔ ایک شخص نے باغ لگایا، اس کے بڑھاپے کی عمر تک باغ خوب سر سبز ہو گیا۔ پھلوں کا موسم آیا تو سارا باغ پھلوں سے لد گیا۔ عین اس وقت شدید اولہ باری ہوئی یا صحرائی طوفان اٹھا اور سارا باغ جھلس کر رہ گیا۔ اپنی زندگی کی کمائی سے آدمی ٹھیک اس وقت محروم ہو گیا جب کہ اس کو سب سے زیادہ اس کی ضرورت تھی۔ اسی طرح جو لوگ اپنی ساری طاقت اپنی دنیا بنانے میں لگاتے رہے وہ مرکز جب آخرت میں پہنچیں گے تو اچانک وہ دیکھیں گے وہ بالکل خالی ہاتھ ہیں ۔ وہاں کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں۔
اللہ کی راہ میں دو بڑی مدیں ہیں۔ ایک خدا کے کمزور بندوں کی مدد کے لئے دینا، خواہ وہ اپنے رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار۔ دوسرے، خدا کے دین کی ضرورتوں میں دینا۔
یہ دینا بظاہمہ اگر چہ ایک انسان کو دینا ہے۔ مگر نیت کے اعتبار سے اس کا مقصد اللہ کو خوش کرنا ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان اپنے کو ”دینے والے“ کی حیثیت میں پاتا ہے اور دوسرے کو ”پانے والے“ کی حیثیت میں تو اس کو وہ بھاری وقت یاد آجاتا ہے جب کہ وہ میدان حشر میں اس حالت میں کھڑا ہوگا کہ دینے کی سب چیزیں خدا کے اختیار میں ہوں گی اور وہ ہر تن محتاج بنا ہوا اس کے سامنے کھڑا ہوگا۔ یہ احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ جو کچھ وہ خدا سے اپنے لئے چاہتا ہے وہی وہ دوسرے کے لئے بنے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا مومن کے لئے ایک علی دعا ہوتی ہے۔ یہ جذبہ اگر آدمی کے اندر صحیح طور پر موجود ہو تو وہ کسی کو دینے کے لئے بہتر چیز چھانٹے گا۔ کیونکہ اصل مسئلہ سامنے کھڑے ہوئے انسان کا نہیں بلکہ خدا کا ہے۔ دیتے ہوئے اس کا جذبہ یہ نہیں ہوگا کہ وہ کسی کے اوپر احسان کر رہا ہے، کیونکہ وہ جو کچھ دے رہا ہے اللہ کے لئے دے رہا ہے، پھر اس کا احسان کس کے اوپر ہے۔ وہ جس کو دے گا اس کو اپنے سے کمتر نہیں سمجھے گا اور زبان سے اس کی دل آزاری کا کوئی کلمہ نہیں نکالے گا۔ سارے معاملے کو خدا کا معاملہ سمجھنے کا ذہن اس کو ہر موقع پر متواضع بنائے رکھے گا حتیٰ کہ جب کوئی سائل اس کے دروازہ پر کھڑا ہوگا تو اس کو ایسا محسوس ہو گا جیسے اس کو خدا نے اپنی طرف سے بھیجا ہو۔ یہ احساس اس کو کسی کو جھڑکنے سے روک دے گا۔ اگر وہ کسی کو دینے والا نہ ہو تو وہ اس کو نرمی کے ساتھ جواب دے گا نہ کہ وہ اس کو جھڑکنے لگے۔ اللہ کے لئے جو کچھ خرچ کیا جاتا ہے اس کا نتیجہ فوراً دکھائی نہیں دیتا۔ اس سے نفس بہکتا ہے کہ یہ بے فائدة خرچ ہے۔ دنیا کی راہ میں خرچ اس کو لوٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور خدا کی راہ میں خرچ ضائع ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر جن لوگوں کو صحیح سمجھ حاصل ہو جاتی ہے وہ نفس کے ان بہکاووں میں نہیں آتے۔ وہ صاف جان لیتے ہیں کہ سب سے زیادہ نفع اور مدد ہی ہے جو خدا کی راہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues