جو خدا کو پالے اس نے سب کچھ پالیا
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۶
وہ لوگ جہنم میں ڈال دیے جائیں گے۔ کیوں کہ انھوں نے یہ سب کچھ شہرت کے لئے کیا ہو گا (402) دوسری طرف مسلم ہی کی ایک روایت کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں سے کہے گا کہ تم نے میری عیادت نہیں کی۔ تم نے مجھ کو کھانا نہیں کھلایا۔ تم نے مجھ کو پانی نہیں پلایا۔ وہ لوگ کہیں گے کہ خدایا تو سارے جہان یا مالک ہے، تجھ کو ان چیزوں کی کیا ضرورت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا فلاں شخص بیمار تھا، تم نے اس کی عیادت نہیں کی۔ فلاں شخص بھوکا تمھارے پاس آیا تم نے اس کو کھانا نہیں کھلایا۔ فلاں شخص تم سے پانی مانگا تم نے اس کو پانی نہیں پلایا۔ اگر تم ایسا کرتے تو مجھ کو تم وہاں پاتے (۴۰۵)
عمل کرنے کی ایک جگہ وہ ہے جہاں دیکھنے والے اس کو دیکھتے ہیں اور چرچا کرنے والے اس کا چرچا کرتے ہیں۔ جہاں وہ فوراً اخبار کی خبر بنتا ہے۔ عمل کرنے کی دوسری جگہ وہ ہے جہاں یا تو کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا یا اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہ ایسا واقعہ ہوتا ہے جس کو لوگ چرچا کے قابل نہیں سمجھتے۔ اخبار میں اس کی شان دار سرخی نہیں بنائی جاتی۔ بالفاظ دیگر ایک عمل مجمع عام کی سطح پر کیا جاتا ہے اور دوسرا عمل فرد کی سطح پر۔ پہلے عمل کو "لوگ" دیکھتے ہیں۔ دوسرا عمل وہ ہے جس کو خدا دیکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کو ہمارے اسلام کا امتحان جہاں مطلوب ہے وہ "فرد" ہے نہ کہ مجمع عام۔ فرد کی سطح پر جو شخص تقویٰ اور اسلامیت کا ثبوت دے رہا ہے وہی اللہ کی نظر میں مسلم اور متقی ہے۔ عوامی سطح پر اسلامیت کا اظہار شہرت طلبی کی بنا پر بھی ہو سکتا ہے۔ مگر آدمی کے سامنے جب ایک تنہا شخص آتا ہے اور وہ اس کی مدد کرتا ہے تو اس میں شہرت کا کوئی محرک نہیں ہوتا۔
آج مظلوم قوم کی حمایت میں ہر شخص بول رہا ہے مگر مظلوم فرد کی حمایت کرنے والا کوئی نہیں۔ وہی آدمی جو اسٹیج پر ملت کی مظلومی کے بارے میں تقریر کا دریا بہارہا ہے جب اس کے سامنے ملت کا ایک فرد اپنی مصیبت لے کر آتا ہے تو اس کو فرد کا مسئلہ حل کرنے سے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔ ملت پر کوئی افتاد پڑے تو وہ تار اور ٹیلی فون اور ہوائی جہاز کی سی تیزی کے ساتھ اس میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لئے دوڑ پڑتا ہے۔ مگر اسی ملت کا ایک فرد اپنے مسئلہ کے حل کے لئے اس کو پکارتا ہے تو وہ اس کے سینہ میں پتھر کا سا دل پا تا ہے۔ دور کے مقام پر اخلاق اور انسانیت کا اسلامی قانون پر سمینار ہو تو ہر آدمی چاہتا ہے کہ ہوائی جہاز میں اڑ کر جائے اور بین اقوامی سمینار میں ایک شاندار تقریر پیش کرے، مگر پڑوس کا ایک آدمی جو اس سے اسلامی سلوک کی بھیک مانگے، جو اس کے سامنے اخلاق اور انسانیت کی دہائی دے رہا ہو، اس کی درخواست کو سننے کے لئے اسے فرصت نہ ہوگی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues