ایک تضاد
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۷
دنیا کا خطرہ آدمی ہمیشہ اپنے اوپر محسوس کرتا ہے اور آخرت کا خطرہ صرف دوسروں کے اوپر ایک بار میں ہریانہ کے علاقہ میں بس سے سفر کر رہا تھا۔ لمبی بس تقریباً پوری بھری ہوئی تھی۔ ایک مقام پر سامنے سے آنے والے ٹرک کے لئے اس کو راستہ دینا پڑا۔ برسات کا زمانہ تھا۔ پختہ سڑک کے کنارے مٹی کا حصہ نرم ہو گیا تھا۔ بس کے پہئے ایک طرف زمین پر سڑک سے اتر گئے۔ بس ابھی الٹی نہیں تھی صرف کروٹ ہوئی تھی کہ تمام مسافروں میں سگھڑ مچ گئی۔ ہر آدمی اپنی سیٹ سے اٹھ کر بھاگنے لگا۔ بس کے دونوں دروازوں پر بے تحاشا ہجوم ہو گیا۔ کچھ لوگ جلدی میں کھڑکی کی طرف سے کود پڑے۔ لوگ اس قدر بے تاب تھے جیسے ہر شخص کو یہ محسوس ہو رہا ہو کہ سارا خطرہ اسی کے لئے ہے اور صرف وہی حادثہ کا شکار ہونے والا ہے۔ میں لوگوں کی گھبراہٹ دیکھنے میں اتنا محو ہوا کہ مجھے یاد نہ رہا کہ اس نازک موقع پر مجھے بھی ان کی پیروی کرنی چاہئے۔
جب آدمی کو کسی خطرہ کا سامنا ہو تو اس کا یہی حال ہوتا ہے۔ خطرہ کا مسئلہ خواہ کروڑوں آدمیوں کے لئے ہو، ہر آدمی یہی سمجھتا ہے کہ سارا خطرہ بس اسی کے لئے ہے۔ اور سب سے پہلے اسی کو اس سے بچنے کی فکر کرنی چاہئے۔ اس کا ایک تجربہ اگست ۱۹۷۹ میں۔ ۸۰ٹن کے اسکائی لیب کے سلسلہ میں ہوا۔ امریکہ کی طرف سے اعلان ہوا کہ اسکائی لیب پر کنٹرول ختم ہو گیا ہے اور اندیشہ ہے کہ وہ زمین پر گر پڑے۔ اس خبر کو سن کر ساری دنیا میں ہر شخص اس طرح ڈر گیا جیسے کہ اسکائی لیب اسی کے سر پر گرنے والی ہو۔ ________ عجیب بات ہے کہ دنیا کے خطرہ کے بارے میں جو بات لوگوں کو اتنی اہمیت کے ساتھ معلوم ہے۔ اسی بات کو وہ آخرت کے خطرہ کے معاملہ میں بالکل بھول جاتے ہیں۔ دنیا کے خطرہ کو ہر آدمی سب سے پہلے اپنے اوپر آتا ہوا محسوس کرتا ہے اور اس سے بچاؤ کی فکر کرتا ہے۔ مگر آخرت کے خطرہ کے بارے میں وہ اس طرح مطمئن ہے گویا اس کا اندیشہ صرف دوسروں کے لئے ہے۔ اس کی اپنی ذات کے لئے اس سے کوئی اندیشہ نہیں۔
ایک تضاد
ایک مسلمان تاجر رات دن تجارت میں مشغول رہتا تھا۔ اسی کے ساتھ کچھ وقتی اور رسمی اعمال کرکے سمجھتا تھا کہ اس نے جنت بھی اپنے لئے رزرو کر رکھی ہے۔ ایک صاحب نے تاجر کو قرآن وحدیث سے کچھ چیزیں سنائیں اور بتایا کہ آخرت کا معاملہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا تم نے سمجھ رکھا ہے۔ تاجر نے بات کو ٹالتے ہوئے کہا: " بابا کا ہے کو اتنا ڈیپ میں جاتے ہوتم" انھوں نے کہا: اگر آپ کا انکم ٹیکس کا مقدمہ ہو تو اس میں آپ خوب ڈیپ (گہرائی) میں جائیں گے۔ مگر آخرت کے مقدمہ کے متعلق سمجھتے ہیں کہ بس سرسری طور پر اس میں کامیاب ہو جائیں گے۔ گویا آخرت کا معاملہ اتنا سنجیدہ بھی نہیں جتنا سنجیدہ انکم ٹیکس کا معاملہ ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues