Al-Risala · February 1980 · page 12

تلاش کا صحیح جواب نہ پانے کی وجہ سے

الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۱۲

تھے۔ ہر لوگوں کے ساتھ کافی وقت گزارتے تھے۔ اب تم اداس نظر آنے لگے ہو۔ اس نے جواب دیا " میرے اوپر دولت کی بجلی گری ہے ،، دولت نے مجھ کو نئے نئے مسائل میں الجھا دیا ہے۔ پہلے ہمارے بچے ہمارے پاس تھے، ہم ان کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ آج ہم بچہ ہم سے دور ہے۔ کوئی یورپ امریکہ پڑھنے گیا ہوا ہے۔ کوئی دور کے کسی مقام پر ملازم ہے۔ جن بچوں کو پہلے ہم میاں بیوی دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ آج ہم ان کے سایہ کے لئے بھی ترستے ہیں۔ بھیڑوں کا فارم ہے تو خیال لگیا ہوا ہے کہ اتنی قیمتی بھیڑیں ہیں، پتہ نہیں ان کا کیا ہوا۔ ٹرک چل رہے ہیں تو اس کی فکر ہے کہ کہیں ایکسیڈنٹ نہ ہو گیا ہو۔ دکانیں میں تو ان کی پریشانی کہ ملازم کہیں گڑ بڑ نہ کر رہے ہوں۔ غرض جتنی زیادہ دولت ہے اتنی ہی زیادہ فکر ہے۔ سیل ٹیکس، انکم ٹیکس اور طرح طرح کے قانونی جھگڑے اس کے علاوہ ہیں۔ غرض زندگی لطف سے خالی ہو کر بس مسائل اور پیچیدگیوں کا مجموعہ بن گئی ہے ۔ یہ دولت آدمی کو سکون نہ دے بلکہ بے چین کر دے۔ اس کے متعلق یہی کہا جائے گا کہ ـــــــــ وہ ایک بجلی ہے جو آدمی کے اوپر گر پڑی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ خوشی کا کوئی تعلق دولت یا دنیوی اعزازات سے نہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی سب کچھ پا کر بھی خوشی سے محروم رہتا ہے۔ ایک امریکی مصنفہ کٹی کیلی نے ایک کتاب شائع کی ہے۔ اس کا نام ہے : آہ جیکی ۔ یہ جیکولین کینیڈی کے نجی حالات کے بارے میں ہے جو کہ کسی وقت امریکہ کی خاتون اول تھی۔ جیکولین قدرت سے ایک پرکشش نسوانی شخصیت لے کر پیدا ہوئی۔ اس کی شادی جان کینیڈی سے ہوئی جو بعد کو امریکہ کے صدر منتخب ہوئے۔ ۲۳ نومبر ۱۹۶۳ کو جب صدر کینیڈی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تو اس وقت جیکولین کینیڈی دنیا کی سب سے زیادہ مشہور اور معزز خاتون بن چکی تھیں۔ اس کے بعد انھوں نے یونانی ارب پتی او ناسس سے شادی کی۔ یہ شادی میاں بیوی دونوں کے لئے خوش گوار ثابت نہ ہو سکی یہاں تک کہ ۱۹۶۸ میں اوناسس کا انتقال اس وقت ہو گا جب کہ جیکولین اس کے پاس موجود بھی نہ تھی۔

جیکولین کو ہر چیز ملی مگر اس کو خوشی نہ مل سکی۔ مصنفہ کے الفاظ میں، جیکولین نے خوشی حاصل کرنے کی بابت اپنی ناقابل علاج خواہش کو خرید کر حاصل کرنا چاہا خواہ اس کی قیمت تین ہزار ڈالر فی گھنٹہ دینی پڑے۔ اس کے باوجود وہ خوشی حاصل نہ کر سکی :

--- AN INCURABLE DESIRE TO BUY HAPPINESS, EVEN IF IT MEANT SPENDING AS MUCH IN ONE HOUR AS 3000 DOLLARS. Jackie Oh: An Intimate Biography, By Kitty Kelley, Vikas, New Delhi, 1979, pp. 336

‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues

Printed page