Al-Risala · February 1980 · page 13

کچھ الفاظ بول دینے کا نام دلیل نہیں

الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۱۳

کچھ الفاظ بول دینے کا نام دلیل نہیں

حق کی دعوت آدمی کے سامنے آتی ہے۔ وہ اس کے خلاف ایک بات کہتا ہے۔ بظاہر وہ ایک دلیل دے رہا ہوتا ہے۔ مگر حقیقتاً وہ حق سے بحثی ہوتی ہے۔ اسی کی طرف قرآن میں ان لفظوں میں اشارہ کیا گیا ہے:

مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ۢ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ ٥ یہ بات جو انھوں نے کہی، یہ تم سے جھگڑنے کے لیے کہی ہے۔ یہ زخرف ۵۸ صرف جھگڑالو لوگ ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مخاطبین کو یہ آیت سنائی: إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ (تم اور جو کچھ تم پوجتے ہو سب جہنم کے ایندھن ہوں گے) عبداللہ بن زبعری نے یہ سن کر کہا: جس طرح ہم بتوں کو پوجتے ہیں، اسی طرح نصاریٰ عیسیٰ بن مریم کو پوجتے ہیں اور تم خود اپنے عقیدہ کے مطابق ان کو رسول مانتے ہو۔ پھر ہمیں اس میں کوئی اعتراض نہیں اگر ہمارے بتوں کا وہی انجام ہو جو تمہارے عقیدہ کے مطابق عیسیٰ کا ہوگا۔ اس کے بعد حاضرین نے اس ذہانت کی داد اس طرح دی کہ سب قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار فرمایا: لیس احد یعبد من دون اللہ فیہ خیر (اللہ کے سوا جس کو معبود بنایا جائے اس میں کوئی خیر نہیں) مخالفین نے کہا: کیا مسیح میں بھی کوئی خیر اور بھلائی نہیں، کیوں کہ ان کو بھی بنانے والوں نے خدا کے سوا معبود بنا لیا ہے ؎۔ اس قسم کی باتوں کو قرآن میں الغارفی الكلام (حم سجدہ ۲۸) کہا گیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ سیدھی بات سے ٹیڑھا مفہوم نکالا جائے۔ داغوافیہ کی تفسیر میں ضحاک نے عبداللہ بن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اس کے كلام میں عیب نکالؤ (عیبوہ ، تفسیر ابن کثیر)

حقیقت یہ ہے کہ تنقید کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ مسئلہ کا علمی تجزیہ کیا جائے۔ آسمانی علم یا مسلمہ حقائق کی روشنی میں ان کا غلط ہونا واضح کیا جائے ۔ یہ صحیح تنقید ہے اور اس کی اجازت ہر ایک کو حاصل ہے۔ دوسرے یہ کہ مسئلہ کا عقلی یا نقلی تجزیہ کرنے کے بجائے اس میں عیب لگائے جائیں، یہ دوسرا طریقہ نہ صرف غلط ہے بلکہ گناہ بھی ہے۔ مثلاً ایک شخص اگر یہ کہتا ہے کہ اسلام میں صرف دفاعی جنگ ہے۔ اسلام کا مثبت اور مستقل کام دعوت ہے نہ کہ جدال و قتال۔ البتہ اگر مخالف طاقتیں حملہ آور ہوں تو مخصوص شرائط کے تحت اس کا دفاع میدان جنگ میں کیا جائے گا۔ کسی کو اس نقطہ نظر سے اختلاف ہو تو دلائل کی زبان میں وہ اس کو رد کر سکتا ہے اس کے برعکس اگر اختلاف کرنے والا یہ کرے کہ جو شخص اس نقطہ نظر کو پیش کر رہا ہے اس کو " قادیانی" یا " ’’صہیونی ایجنٹ " کہنے لگے تو یہ کلام میں عیب لگانے کی مثال ہوگی جو نہ صرف علمی اعتبار سے بے معنی ہے بلکہ اللہ کے نزدیک سخت گناہ ہے۔ قرآن اور حدیث کی مذکورہ بالا مثال سے واضح ہوتا ہے کہ کوئی کلام خواہ کتنا ہی حق ہو ، ایک آدمی جو بات کو سمجھنا نہ چاہتا ہو، وہ کوئی نہ کوئی ایسا شوشہ ڈھونڈلے گا جس کی بنیاد پر وہ اس کلام کو بے اعتبار ظاہر کر سکے۔ کلام میں ایسا کوئی ’’نکتہ‘‘ پا کر آدمی کو کبھی اس غلط فہمی میں نہ پڑنا چاہیے کہ وہ اپنے حق میں کوئی مضبوط دلیل پا گیا ہے۔ عین ممکن ہے کہ جس چیز کو وہ دلیل سمجھ رہا ہے وہ محض ایک جدال ہو جس کی کوئی قیمت نہ علم کی نظر میں اور نہ اللہ کی نظر میں۔

الرسائل فروری ۱۹۸۰ء | ۱۳

‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues

Printed page