Al-Risala · February 1980 · page 32

جان اور مال کی قربانی کے بغیر جنت نہیں

الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۳۲

تضرعت الیک وذکرتک واذا شبعت شکر تک کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں۔ جب مجھے بھوک لگے تو میں وحمد تک تجھ سے گڑگڑا کر مانگوں اور جب سیری ہو تو میں تیرا شکر کروں اور تیری تعریف کروں قلب کا سخت ہو جانا سب سے بڑی سزا قال مالک بن دینار ما ضرب يعقوبۃ اعظم مالک بن دینار نے وہا۔ دل کی سختی سے زیادہ بڑی سزا کبھی من قسوة القلب (دوم (۸) کسی بندے کو نہیں دی گئی اللہ کی راہ میں جان و مال خرچ نہ کرنا ہلاکت ہے ابو عمرؓران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ ہم لوگ قسطنطنیہ کے غزوہ میں تھے۔ ہمارے امیر لشکر عبد الرحمن بن خالد بن ولید تھے۔ رومیوں کی طرف سے ایک بڑی فوج فجی ۔ ہماری طرف سے ایک مہاجر نے نکل کر رومیوں پر حملہ کیا اور ان کی صفوں کو توڑ دیا۔ یہ دیکھ کر ہم میں سے کچھ لوگوں نے کہا : القی بید کآلی التہلکہ (اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دیا) ہمارے لشکر میں ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ انھوں نے کہا: نحن اعلم بهذه الآية (مانزلت فینام ہم انصاری اس آیت کی بابت زیادہ جانتے ہیں ۔ کیوں کہ وہ ہمارے بارے میں اتری تھی) پھر انھوں نے بتایا کہ جب اللہ نے اپنے نبی کی مدد فرمائی اور اسلام غالب ہوگیا تو ہم نے آپس میں کہا: آؤ اب اپنی جائدادوں میں رہیں اور اپنے مال کی طرف توجہ دیں۔ اس وقت اللہ نے یہ آیت اتاری : و انفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بِأَيْدِيكُم إلى التهلكة (اللہ کے راستہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالو) :

فالا لقاء بايدينا الى التهلكة ان نقيم فى اموالنا پس اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا یہ ہے کہ ہم اپنے مالوں میں ونصلحها و ندع الجهاد (تفسیر ابن کثیر جلد اول) ٹھہریں اور اس کی درستی میں لگیں اور جہاد کو چھوڑ دیں ناراضگی کے وقت کسی کی بربادی کے درپے نہ ہو جاؤ عن اسلم عن عم قال لا يكن حُبَك کلفا ولا بغضات عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کسی کے ساتھ محبت میں دیوانہ نہ ہو جاؤ تلفا - فقلت كيف ذالك - قال اذا احببت کلفت اور دشمنی کے وقت اس کو تکلیف پہنچانے نہ لگو۔ راوی کہتے ہیں كلف الصبي واذا ابغضت احببت لصاحبك کہ میں نے پوچھا کہ کیسے ۔ آپ نے کہا: اس طرح کہ جب تم محبت التلف (الادب المفرد، صفحه ۱۹۱) کرو تو بچوں کی مانند محبت کرو اور جب کسی سے ناراض ہو تو اس کی تباہی وبر بادی چاہو۔

جان اور مال کی قربانی کے بغیر جنت نہیں

بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیعت کے لئے آیا۔ میں نے پوچھا : اے خدا کے رسول ! آپ مجھ سے کس چیز پر بیعت لیں گے ۔ آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کہا : گواہی دو کہ ایک اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ۔ اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ پانچ وقت کی نمازیں ان کے وقتوں پر ادا کرو۔ زکوٰة دو۔ رمضان کے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues

Printed page