Al-Risala · February 1980 · page 36

دنیا ستی اُن کا دین بھی ہے اور اِن کا بھی

الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۳۶

دنیا کی زندگی میں حقیقتوں سے پردہ نہیں ہٹایا گیا ہے۔ یہاں آدمی کے لئے ممکن ہے کہ وہ خوبصورت الفاظ میں اپنی اندرونی بے مانگی کو چھپا سکے۔ زرق برق سواریوں اور شان دار مجالس میں ظاہر ہو کر لوگوں کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر سکے کہ جس شخص کے جلو میں اتنی عزتیں اور شوکتیں چل رہی ہیں وہ ضرور حق پر ہوگا۔ تاہم "خصام" کے وقت ایسے شخص کا بھرم کھل جاتا ہے۔ جب کسی سے اس کا جھگڑا پیش آجائے تو خوبصورت باتیں کرنے والا شخص فوراً بد کلامی پر اُتر آتا ہے، وہ اپنے لبادہ کو اتار پھینکتا ہے۔ اس وقت لوگ دیکھتے ہیں کہ حسین پردہ کے اندر ایک بدہیئت انسان چھپا ہوا تھا۔ ایسے شخص کا حال یہ ہوتا ہے کہ جہاں صرف باتوں اور تقریروں کا جوہر دکھانا ہو وہاں تو وہ خوب اونچی اونچی باتیں کرتا ہے اس کی زبان سے قومی تعمیر، باہمی امن، بزرگوں کی روایات کا تحفظ اور معیاری انسانی سماج کے قیام کی باتیں نکلتی ہیں ۔ مگر تقریر کے اسٹیج سے اتر کر جب وہ اپنے عملی دائرہ میں آتا ہے جہاں اس کو خود ان اچھی باتوں کے قائم کرنے کا اختیار ہے جو اس نے اپنی تقریر میں کہی تھیں تو اچانک وہ بالکل دوسرا انسان بن جاتا ہے۔ یہاں وہ اپنی کبریائی قائم کرنے کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ خواہ اس کے نتیجہ میں خاندان برباد ہوں، کسی کی معاشیات تباہ ہو جائیں، ماحول میں اصلاح کے بجائے فساد برپا ہو۔ جب اس کو یاد دلایا جاتا ہے کہ تمھارا عمل تمھاری بات کے مطابق نہیں تو گھمنڈ کی نفسیات اس کے لئے اعتراف میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ وہ جانتے ہوئے بھی اپنے کو گڑھے میں گرا دیتا ہے۔ اللہ کے نزدیک ایسے خوش گفتاروں کی کوئی قیمت نہیں، اس کو تو وہ لوگ پسند ہیں جو اپنی زندگی کی قیمت پر حق کو اختیار کریں۔ جب حق کو قبول کرنے کے لئے اپنے کو بے عزت کرنے کا سوال ہو، جب اپنے مقابلہ میں دوسرے کی بُرائی کا اعتراف کرنا پڑے، جب دنیوی مصلحت سے بے پروا ہو کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہو تو آدمی ہچک کر بیٹھ جاتا ہے۔ وہ اپنے ذاتی حصار کو توڑ کر آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کرتا۔ وہ بھول جاتا ہے کہ یہی تو حق کی واحد قیمت ہے۔ اور جو شخص حق کی قیمت دینے کے لئے تیار نہ ہو وہ اس کا خریدار کیسے بن سکتا ہے ۔

اللہ کو وہ بندے پسند ہیں جو اللہ کی طرف اس طرح بڑھیں کہ اپنی ذات اور اپنے قلب و دماغ کو انھوں نے ہمہ تن اللہ کے حوالے کر دیا ہو، اس کے سوا کسی اور کی وفاداری ان کے دل میں باقی نہ رہے۔ شیطان مختلف طریقوں سے آدمی کی وفاداری کو تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ کبھی مصلحتوں کو سامنے لاتا ہے، کبھی کسی فائدے کا لالچ دیتا ہے۔ کبھی کسی نقصان سے ڈراتا ہے، کبھی عزت کے سوال کو سامنے کھڑا کرتا ہے۔ اس قسم کے وساوس ڈال کر شیطان چاہتا ہے کہ آدمی خدا سے بس رسمی تعلق رکھے اور اپنے حقیقی معاملات اور اپنی روز و شب کی زندگی میں اپنی دل پسند راہوں پر چلتا رہے ۔ "اسلام میں پورا داخل نہ ہونا " یہ ہے کہ آدمی عباداتی آداب میں خدا کے سامنے سر جھکائے مگر جب خدا کا کوئی بندہ اس کے سامنے خدا کی ایک دلیل پیش کرے تو وہ اس کے آگے جھکنے کے لئے تیار نہ ہو۔ وہ نماز میں صف بندی کا اہتمام کرے مگر جب راہ خدا میں متحدہ جد و جہد کا سوال ہو تو اتحاد میں شامل نہ ہو۔ وہ قرآن کے الفاظ کو ادا کرنے میں مخارج کی درستگی پر خوب زور دے مگر قرآن میں اپنی زندگی کی رہنمائی ڈھونڈنے کی کوشش نہ کرے۔ روزہ میں وہ کھانا پینا ترک کرنے میں کو تاہ نہ ہو مگر جھوٹ بولنے اور جھوٹے کام کرنے سے روزہ نہ رکھے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues

Printed page