Al-Risala · February 1980 · page 37

امتحان کس بات کا

الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۳۷

امتحان کس بات کا

قرآن میں آدم کا قصہ بتے ہوئے کہا گیا ہے : ” اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب سجدہ میں گر پڑے ۔ مگر ابلیس نے کہنا نہ مانا اور تکبر کیا اور انکار کرنے والا ہو گیا ۔ اور ہم نے کہا: اے آدم تم اور تمھاری عورت جنت میں رہو اور اس میں سے با فراغت کھاؤ جہاں چاہو ۔ مگر اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ تم ظلم قرار پاؤ گے۔ پھر شیطان نے دونوں کو لغزش میں مبتلا کر دیا اور ان کو اس عیش سے نکال دیا جس میں وہ تھے۔ ہم نے کہا: تم سب اترو۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تم کو زمین میں ٹھہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے ایک مدت تک (بقره) اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں ابلیس نے آدم کو سجدہ کیوں نہیں کیا۔ اس کی وجہ اس کا یہ احساس تھا کہ میں آدم سے بہتر ہوں (انا خیر منہ ص ۷۶) اس کے مقابلہ میں فرشتے ذاتی بڑائی کے احساس سے خالی تھے۔ وہ ساری بڑائی صرف اللہ کے لئے تسلیم کرتے تھے۔ اس لئے اللہ کا حکم پاتے ہی وہ ایک حقیر مخلوق کے آگے سجدے میں گر پڑے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے تخلیق کی ابتدا میں دو واضح کردار انسان کے سامنے رکھ دئے ۔ ایک ابلیسی کردار ۔ دوسرا ملکوتی کردار۔ ابلیس رات دن اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ وہ انسان کو اپنا ہم مسلک بنائے۔ مگر انسان کو تمام ترغیبات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو فرشتوں کا ہم مسلک بنانا ہے ۔

کوئی دولت، شہرت، اقتدار میں بڑھ جائے تو آر میں جینے لگتا ہے۔ کیوں کہ وہ اپنے سوا کسی کو بڑا دیکھنا نہیں چاہتا غیر شخص کی زبان سے حق کا اعلان ہو تو وہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا کیونکہ ایسا کرنا دوسرے کی فکری عظمت تسلیم کرنے کے ہم معنی نظر آتا ہے، کسی پر تنقید کر دی جائے تو وہ پھر اٹھتا ہے ۔ کیوں کہ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ ناقد اس کی بڑائی کو چیلنج کر رہا ہے۔ خاموش تعمیری کام میں ساتھ دینے کے لئے مشکل چند آدمی ملتے ہیں۔ اور کسی حکمران کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی تحریک چلائیے تو بھیڑ کی بھیڑ جمع ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس قسم کی سیاست میں برے کی بڑائی کا انکار کرنے کے جذبہ کو تسکین مل رہی ہے۔ انسان کی اصل کمزوری ہے اپنے سوا کسی کے لئے بڑائی کو تسلیم نہ کرنا۔ اس کے مقابلہ میں انسان کی اصل خوبی اللہ کی نظر میں یہ ہے کہ آدمی ذاتی بڑائی کے احساس کو مٹا دے اور اللہ کا حکم آتے ہی فوراً جھک جائے خواہ یہ جھکنا اپنے سے کمتر کا اعتراف کرنے کے ہم معنی کیوں نہ ہو۔

جو لوگ ’’ظالم‘‘ حکمرانوں کے خلاف اٹھتے ہیں بہت جلد ان کے گرد انسانوں کا غول جمع ہو جاتا ہے۔ ہجوم کو دیکھ کر اس قسم کے قائدین اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ ان کے ملک میں ظلم کرنے والا بس وہی ایک شخص ہے جو اقتدار کی گدی پر بیٹھا ہوا ہے۔ باقی تمام لوگ عدل و انصاف کے عاشق ہیں۔ اگر اس ظالم کو کسی طرح تخت سے ہٹا دیا جائے تو اس کے بعد ہر طرف انصاف کا سیلاب بہہ پڑے گا ۔ ہر طرف امن کی ہوائیں چلنے لگیں گی ۔ مگر یہ شدید ترین غلط فہمی ہے۔ ’’ظالم‘‘ کے اقتدار کو چیلنج کرنے والی تحریکوں کے گرد انسانوں کا غول حقیقۃً ملکوتی نفسیات کے تحت جمع نہیں ہوتا ۔ یہ صرف اس غیر ملکوتی نفسیات کا نتیجہ ہوتا ہے جس کا شکار ہمیشہ تمام قومیں ہوتی رہی ہیں کسی کے اقتدار کو چیلنج کرنا تا اس نفسیات کے لئے مرغوب ترین چیز ہے۔ جب کوئی قائد اس قسم کا منفی نعرہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues

Printed page