ارتقاء تجربہ کی کسوٹی پر
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۹
ارتقاء تجربہ کی کسوٹی پر
انسان اور دوسرے بے شمار حیوانات کیسے بنے۔ نظریہ ارتقاء کا کہنا ہے کہ وہ ترقی کرتے کرتے اپنی موجودہ صورت میں بن گئے ہیں۔ مثلاً انسان حیوانات ہی کی ایک خاص شاخ کی اگلی ترقی یافتہ صورت ہے۔ یہ شاخ ترقی کرتے کرتے بالآخر بے دم کے بندر (گوریلا، چمپازی) تک پہنچی۔ بے دم کے بندروں کی ارتقائی صورت کا نام انسان ہے۔ گویا بے دم کے بندر ہمارے قریبی پرکھے ہیں۔ اس نظریہ کے مطابق یہ ممکن ہونا چاہئے کہ بے دم کے بندروں کو فرنگی تربیت دے کر ان میں وہ ارتقائی اوصاف پیدا کئے جاسکیں جو آج انسان کے اندر پائے جاتے ہیں۔ اس مفروضہ کی بنا پر یہ مان لیا گیا تھا کہ اس قسم کے بندروں کو تربیت دے کر ان میں انسانی اوصاف پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ تاہم امریکہ میں اس سلسلے کی پچھلے تیرہ سال کی کوششیں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہیں۔ بعض پر جوش ارتقاء پسند اگر چہ اب بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ مایوس نہیں ہیں۔ تاہم حقیقی نتائج ان کی خوش گمانی کی تائید نہیں کرتے۔ ہر برٹ ٹریس (Herbert Terrace) کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے چمپازی کا ایک بچہ لیا اور گھر کے ماحول میں رکھ کر اس کو پالنا شروع کیا۔ ان کا بنیادی مقصد اس کو بولنا سکھانا تھا۔ مگر چار سال کی مسلسل کوشش کے باوجود انھیں کامیابی نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ چمپازی نے جو کچھ سیکھا وہ اس کے سوا کچھ نہ تھا جو ایک کتا بھی سیکھ لیتا ہے، کتا اپنے مالک کی بعض اشاراتی آوازوں پر حرکت کرتا ہے، اسی طرح چمپازی بھی۔ چمپازی نے بعض الفاظ بولنا ضرور سیکھ لیا مگر اس کی کارکردگی کی حقیقت ایک خالص ڈرل سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ پروفیسر ٹریس کے الفاظ میں بولنے کی صلاحیت انسان کی خصوصی صلاحیت ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان حیوان ناطق ہے“ کی قدیم انسانی تعریف آج کے دور کے لئے بھی صحیح ہے۔
Language still stands as an important definition of the human species. بے دم والے بندروں کا حافظہ اچھا ہوتا ہے، اس لئے کئی ایسے گوریلا اور چمپازی ہیں جنھوں نے مشق کے بعد انسانی زبان کے متعدد الفاظ یاد کر لئے ہیں مگر ڈاکٹر ٹریس کا کہنا ہے کہ لمبی تربیت کے باوجود وہ اس صلاحیت کا ثبوت نہ دے سکے کہ متفرق یاد کئے ہوئے الفاظ کو جوڑ کر ایک با معنی جملہ بنا سکیں۔ ڈاکٹر ٹریس نے یہ تربیتی سلسلہ نومبر ۱۹۷۳ء میں شروع کیا تھا۔ ڈاکٹر ٹریس نے تربیت یافتہ چمپازی کی ٹیپ لوگوں کو سنایا۔ چمپازی یاد کئے ہوئے الفاظ دہرارہا تھا۔ مگر تمام الفاظ بے ترتیب تھے، جیسے کوئی شخص لکھے ہوئے الفاظ کا متفرق کارڈ بے ربط طور پر نکال رہا ہو۔ مثلاً چمپازی کی ایک ”گفتگو“ کے الفاظ یہ تھے (ٹائمز آف انڈیا ۲۴ اکتوبر ۱۹۷۹ء)
give orange me give eat orange me eat orange give me eat orange give me you انسان کا بچہ اپنے گھر میں خود بخود بولنا سیکھ لیتا ہے۔ مگر چمپازی اسی گھر میں ماہرین کی خصوصی تربیت کے باوجود کچھ نہ سیکھ سکا۔ وہ چند رٹائے ہوئے الفاظ کو بے ربط طور پر دہراتا رہا۔ یاد کئے ہوئے الفاظ کو جوڑ کر ایک با معنی جملہ بنانے پر وہ قادر نہ ہوسکا۔ الرسائل جنوری ۱۹۸۰
‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues