یہ جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا ہونا ہے
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۸
یہ جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا ہونا ہے
لوہے کے ایک ٹکڑے سے سائنسی پیمانہ بنانا ہو تو اس کو شدید ترین آزمائشی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے معیاری پیمانہ کی صورت میں ڈھل سکے جس سے سائنسی تجربوں میں چیزوں کو ناپنے اور اندازہ کرنے کا کام لیا جائے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ شاہد (حق کا گواہ) بننے کا بھی ہے۔ داعی اور شاہد بننا اس زمین پر سب سے مشکل واقعہ کو ظہور میں لاتا ہے۔ یہ خدائی منصب کسی کو اس طرح نہیں مل جاتا کہ وہ کچھ الفاظ لکھ یا بول دے، پریس اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ کچھ آوازیں لوگوں تک پہنچا دے۔ داعی اور شاہد بننا خدا کی زمین پر خدا کا پیمانہ بننا ہے جس سے حق اور باطل کو ناپا جاسکے۔ یہ اپنے آپ کو خدا کی کوہ شکن تجلیات کی زد میں لے جانا ہے تاکہ وہ ان کو اپنے اوپر لے کر انہیں عام انسانوں کی طرف منعکس کر سکے۔ جس جنت اور جہنم کے درمیان لوگ مرنے کے بعد کھڑے ہونے والے ہیں وہاں اپنے آپ کو جیتے جی پہنچا دینا ہے۔ خدا کا گواہ بننے والا خدا کے ناقابل برداشت عذاب کی لپٹوں کو اپنے اوپر محسوس کرتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو اس سے ڈرائے، وہ خدا کے ثواب کی راحتوں میں بسر لیتا ہے تاکہ اس کی خوش خبری لوگوں کو سنا سکے۔ اس طوفان خیز تجربہ کے بعد وہ انسان بنتا ہے جو خدا کی طرف سے بولے اور لوگوں کے اوپر خدا کا داعی اور شاہد بنے۔ داعی اور شاہد بننا دراصل انسانوں کے درمیان ایسے انسان کو وجود میں لانا ہے کہ تمام صحیح ترین واقعات اس کی نسبت سے قائم ہو جائیں۔ عدل اور ظلم، خدا پرستی اور خدا فراموشی، قبول حق اور انکار حق غرض اخروی اہمیت کی تمام باتوں کے لئے اس کی زندگی معیاری مثال بن جائے۔ داعی اور شاہد کی زندگی میں حق اپنی کامل صورت میں متحقق ہوتا ہے اور باطل اپنی کامل صورت میں مبرہن ہو جاتا ہے۔ داعی اور شاہد کوئی آدمی اس وقت بنتا ہے جب اس کے ذریعہ ایسے کلام کا ظہور ہو جس میں حق صرف حق کی صورت میں دکھائی دے اور باطل صرف باطل کی صورت میں نظر آئے۔ اس کے ذریعہ ایسے حق کو قبول کرنے والے لوگ وجود میں آئیں جنہوں نے خالصۃً اللہ کی خاطر حق کو اختیار کیا ہو۔ اس کے ذریعہ ایسے حق کا انکار کرنے والے لوگ ابھریں جو کامل اظہار حق کے باوجود اس کا انکار کرنے والے بنے ہوں۔ اس سے ایسے واقعات کا صدور ہو جس میں وہ تمام تر انصاف پر ہو اور دوسرا تمام تر بے انصافی پر خدا کی زمین پر اس کی زندگی ایسی سرگزشتوں کی تاریخ ہو جس میں وہ صد فی صد مظلوم ہو اور اس کا فریق صدفی صد ظالم۔
داعی اور شاہد بننا خدا کی زمین پر خدا کی عدالت بننا ہے۔ اور خدا کی عدالت وہی بن سکتا ہے جو اپنے کلام اور لوگوں کے ساتھ اپنے معاملات میں معیار کامل کی حد تک پہنچ گیا ہو۔ وہ خدا کی زمین پر ایسا پیمانہ بن جائے جس پیمانے سے خدا لوگوں کو ناپے ۔ وہ ایسا تر ازو بن جائے جس ترازو سے خدا لوگوں کو تولے۔ خدا کا گواہ بننا نہ زبان و قلم کا کمال دکھانے کا نام ہے اور نہ قیادت کا چمکدار دکھانے کا۔ یہ قولِ ثقیل (مزمل) کا حامل بننا ہے۔ یہ اپنے آپ کو خشاشہ متصل (عاشر) کے مقام پر کھڑا کرنا ہے۔ یہ سولی پر چڑھنے اور پھانسی پر لٹکنے سے بھی زیادہ سخت تجربہ ہے۔ یہ مقام اسی کو ملتا ہے جو اپنی شخصیت کی نفی کر کے خدا کی طرف بڑھا ہو، جس نے دنیا کی بربادی کی قیمت پر آخرت کو اختیار کیا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues