دین میں الحاد
الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۳۳
سے بے دخل کرنے کے بجائے اس جدوجہد میں لگ جاتا ہے کہ اپنے دل کی سلطنت سے نفس اور شیطان کو بے دخل کرے۔ الفاظ کے کارنامے دکھانے سے اس کو کوئی دلچسپی یں ہوتی۔ اس کے برعکس وہ خاموشی اور گم نامی کی دنیا میں اسلامی تعمیر کا محل کھڑا کرتا ہے۔ عوامی اسٹیج پر مظاہرے کرنا اس کو بے معنی معلوم ہونے لگتا ہے۔ اس کے بجائے وہ اس بزم کا ہم نشین بن جاتا ہے جہاں خدا اور اس کے فرشتوں اور اس کے نیک بندوں کی محفل لگی ہوئی ہے۔ اس کا عمل وہ عمل بن جاتا ہے جو خدا کو عمل نظر آئے گو یا کہ وہ عمل جو انسانوں کو عمل دکھائی دیتا ہے مگر خدا کے یہاں اس کی کوئی عملی قیمت نہیں ہوتی۔ ایک لیڈر کو شہرت کے کاموں سے دلچسپی ہوتی ہے۔ وہ ان راہوں میں دوڑتا ہے جو اس کی عوامی مقبولیت کو بڑھائے، جس سے اس کے جاہ و مرتبہ میں اضافہ ہو۔ اس کے گردو پیش کتنے ہی خشک ذمہ داریوں والے انتہائی ضروری کام موجود ہوتے ہیں مگر وہ اس کو نظر نہیں آتے۔ حتیٰ کہ توجہ دلانے پر بھی وہ ان کی اہمیت کو اور ان کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کرتا۔ البتہ اس کا ذہن ایسے کاموں کو دریافت کرنے میں بہت زرخیز ہوتا ہے جس کے عنوان پر وہ پریس کانفرنس کر سکے۔ جس کے ذریعہ وہ اخبار کی سرخیوں میں نمایاں ہو۔ جو اس کو بڑی بڑی شخصیتوں سے ملاقات کے مواقع فراہم کرتے ہوں۔ جو اس کو ٹرنک کال کرنے اور ہوائی جہاز پر ادھر سے اُدھر اُڑنے کا جواز عطا کرتے ہوں ۔ جن کے نتیجہ میں اس کو یہ موقع ملے کہ وہ سجے ہوئے پنڈال میں کھڑے ہو کر الفاظ کا دریا بہائے اور لوگوں سے تھیلیاں اور استقبالئے وصول کرے۔ مگر اللہ کے سچے بندے کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہ خدا کی طرف بھاگنے والا ہوتا ہے نہ کہ شہرت کے کاموں کی طرف بھاگنے والا۔ اس کو ان کاموں سے دلچسپی ہوتی ہے جن کو خدا دیکھ رہا ہے نہ کہ وہ کام جو انسانوں کو نظر آتے ہیں۔ سچا مومن وہ ہے جو دل ہی دل میں اپنے احتساب میں مشغول رہتا ہو جس کو اس بات کی فکر لگی رہتی ہو کہ اس سے یا اس کے اہل خاندان سے اس کے پڑوسیوں کو تکلیف نہ پہنچے۔ جو اللہ کو یاد کرے اور اہل معاملہ کے درمیان اپنی ذمہ داریوں کو خاموشی کے ساتھ ادا کرتا رہے، جس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہو کہ اس کو جہنم میں نہ ڈال دیا جائے اور جس کی سب سے بڑی تمنا یہ ہو کہ اس کا خدا اس کو جنت کے غول میں جگہ دے۔ بندہ مومن کے عمل کا محرک اللہ کے سامنے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہوتا ہے نہ کہ عوام کے سامنے شہرت وعزت حاصل کرنا نہ عوام کے درمیان اپنی ’’امیج‘‘ بڑھانے کے لئے کام کرنا نہ عوام کو خدا کی جگہ بٹھانا ہے۔ یہ خدا کے بجائے عوام کو اپنا مرکز توجہ بنانا ہے۔ یہ ریا ہے اور ریا کو حدیث میں شرک کہا گیا ہے۔ جو لوگ اس قسم کے عمل میں مشغول ہوں وہ اپنے لئے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ وہ خدا کے یہاں مجرموں اور فسادیوں کے زمرہ میں شامل کر دئے جائیں۔ کوئی شخص اگر اپنے اس مشغلہ کے لئے دین و ملت کا عنوان دریافت کر لے تو اس سے مسئلہ کی نوعیت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا. بے دینی کو اگر دین کے نام پر کیا جانے لگے تو محض نام بدلنے سے کوئی شخص خدا کی پکڑ سے مامون محفوظ نہیں ہو جاتا۔ بلکہ اس کا جرم کچھ اور بڑھ جاتا ہے، کیوں کہ اس نے اپنے غیر خدا پرستانہ کاروبار کے لئے خدا کا نام استعمال کیا ـــــــــ موجودہ دنیا میں آدمی کے لئے ممکن ہے کہ وہ الفاظ بول کر لوگوں کو غلط فہمی میں ڈال سکے۔ ایک بے فائدہ کام کو ایسے عمدہ پیرایہ میں بیان کیے کہ وہ لوگوں کو اہم معلوم ہونے لگے اور لوگ اس کے لئے اپنی جیبیں خالی کر دیں اور جوق در جوق جمع ہو کر اس کی شان قیادت میں اضافہ کریں۔ مگر آخرت میں ایسا ممکن نہ ہوگا، کیوں کہ وہاں حقیقت کی حکمرانی ہوگی نہ کہ الفاظ کی حکمرانی۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues