Al-Risala · February 1980 · page 32

دین میں الحاد

الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۳۲

کا ایمان اس کے قلب کے اندر داخل ہو جائے ۔ (تو به) ایک کو قولی ایمان اور دوسرے کو قلبی ایمان کہہ سکتے ہیں ۔ قولی ایمان کا ابتدائی مطلب یہ ہے کہ آدمی زبان سے ایمان کا کلمہ بول دے مگر اس کا ایمان عملی اطاعت نہ بنے ۔ وہ زبان سے کہے کہ میں اللہ اور رسول پر ایمان لایا " مگر روزانہ کی زندگی میں اس کی دلچسپیاں اور تعلقات معاملات میں اس کی سرگرمیاں اللہ اور رسول سے آزاد ہو کر بسر ہو رہی ہوں۔ اللہ اس کی توجہ کا مرکز نہ بنے اور رسول کو وہ اپنی زندگی کے لئے نمونہ نہ ٹھہرائے۔ اس کی زندگی بھی عملاً ویسی ہی ہو جیسی ان لوگوں کی ہوتی ہے جنہوں نے ایمان کا اقرار نہیں کیا ہے۔ اس کا قلب اللہ کی یاد سے خالی ہو اور اس کا کارروائیاں اللہ کے رنگ میں رنگی ہوئی نظر نہ آئیں ۔ جب کسی کا یہ حال ہو تو کہا جائے گا کہ اس نے ایمان کا کلمہ تو بول دیا ہے مگر وہ اس کے دل میں اس طرح داخل نہیں ہوا ہے کہ وہ اس کی پوری ہستی میں سما جائے اور اس کی زندگی کو بدل دے ۔ جب آدمی قولی ایمان کی سطح پر ہو تو اس کا ایمان اس کو جو چیز دیتا ہے وہ بس قولی بحثیں ہیں۔ اس کو اپنی خامیوں سے زیادہ دوسروں کی خامیوں کی خبر ہوتی ہے جس کو وہ جوش کے ساتھ بیان کرتا رہتا ہے ۔ وہ اپنے لئے ایسے مشاغل ڈھونڈ لیتا ہے جس میں تقریروں اور اخباری بیانات جیسے " قولی" کارناموں کے ذریعہ اسلام اور ملت اسلام کی خدمت کا کریڈٹ ملتا ہو۔ اس کو ایسے پروگرام حاصل ہو جاتے ہیں جس میں دوسروں کے خلاف الفاظ کا طوفان برپا کرنا یا دوسروں کے خلاف سیاسی ایکٹیویچاپڑ کرنا وہ چیز ہو جس پر اسلامی نظام قائم کرنے کا تمغہ عطا کیا جائے۔ وہ اسلام پر بحث و مباحثہ کی بے شمار ایسی صورتیں دریافت کر لیتا ہے جس میں دنیا کی ہر چیز زیر بحث آئے مگر اس کی اپنی ذات ہمیشہ مستثنیٰ رہے۔

قلبی ایمان کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے ، قلبی ایمان جب کسی کو ملتا ہے تو وہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے گلاس کے پانی میں رنگ پڑ جائے ۔ ایسا ایمان اس کی پوری ہستی میں تیر جاتا ہے، وہ اس کے قلب و دماغ میں سما جاتا ہے ، وہ اس کی آنکھ بن جاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے ۔ وہ اس کا کان بن جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے ۔ وہ اس کا ذہن بن جاتا ہے جس سے وہ سوچتا ہے ۔ وہ اس کے دل دھڑکن اور اس کی توجہات کا مرکز ہوتا ہے ۔ وہ اسی کی یاد لے کر سوتا ہے اور اسی کی یاد لے کر جاگتا ہے ۔ ایسا ایمان آدمی کو فکر و خیال کی ایک ابدی دنیا دے دیتا ہے جس میں وہ جئے ۔ وہ اس کو نظر آنے والی کائنات کے اندر ایک اور کائنات کا تجربہ کرا دیتا ہے جس کا وہ باسی بنے۔ ایسے آدمی کے قدم دنیا میں چلتے ہیں مگر اس کے احساسات خدا میں گم رہتے ہیں۔ وہ بظاہر دنیا کی چیزوں کو برتتا ہے مگر حقیقتاً وہ آخرت کے عالم میں سانس لینے لگتا ہے ۔ اس کا ایمان اس کے لئے خدا سے ملنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔

قلب کی سطح پر جس کو ایمان ملتا ہے تو وہ اس کی زندگی کا محض ایک رسمی ضمیمہ نہیں ہوتا بلکہ وہی اس کی کل زندگی بن جاتا ہے وہ اس کے لئے بے روح عملیات کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ وہی اس کی اصل ہستی ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ اپنی صبح و شام کرتا ہے۔ اس کے لئے ایمان خارجی دنیا پر غور و بحث کا عنوان نہیں ہوتا بلکہ خود اپنا احتساب کرنے کا عنوان ہوتا ہے ۔ وہ باہر کے ظالموں کو اقتدار

‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues

Printed page