وقت کی اہمیت
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۸
بات کو دیر تک سوچو پھر اس کو منھ سے نکالو، تم کبھی شرمنوہ نہ ہو گے افلاطون اگر آدمی کے پاس اچھے بول ہوں تو وہ اچھی صورت نہ ہونے کے باوجود لوگوں کو اچھا معلوم ہوگا سوئیٹ نارڈین ملنے کی طاقت جو انسان کو حاصل ہے وہ بڑی انوکھی طاقت ہے۔ ساری معلوم کائنات میں کسی کو جب طاقت حاصل نہیں دو گونگے آدمی اگر باہم ملیں تو ان کا ملنا کس قدر بے معنی ہوتا ہے اس کا اندازہ ہر اس شخص کو ہے جس نے کبھی دو گونگوں کو ملتے ہوئے دیکھا ہے۔ مگر یہ دو بولنے والے آدمی ملتے ہیں تو ان کا ملنا حد درجہ بامعنی بن جاتا ہے۔ اس وقت زبان ہی وہ چیز ہوتی ہے جس سے دونوں اپنے آپ کو ایک دوسرے سے قریب کرتے ہیں۔ دو بولنے والے جب سنجیدگی اور مٹھاس کے ساتھ باتیں کریں تو اس سے زیادہ حسین منظر اس زمین پر کوئی نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس جب زود آدمی تلخ کلامی پر اتر آئیں تو وہ اتنا زیادہ برا منظر ہوتا ہے کہ خود بولنے والے اگر اپنی اس وقت کی تصویر دیکھ لیں تو اپنی اس حرکت پر نفرت کرنے لگیں۔
نادان آدمی خیال کرتا ہے کہ بھلی بات بولنے پر لوگ اس کو کمزور سمجھیں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جب آدمی بری بات سن کر اپنے کو تھامتا ہے اور اس کے جواب میں اپنی زبان سے بھلی بات نکالتا ہے تو وہ اپنی غیر معمولی طاقت کا ثبوت دیتا ہے، وہ اپنے اس پر اعتماد مظاہرہ سے اپنے دشمن کو مرعوب کر لیتا ہے ایسے ہر واقعہ کے بعد دشمن کا دل مجبور ہوتا ہے کہ اپنے کو چھوٹا اور اپنے حریف کو برا سمجھے۔ بھلی بات دشمن کے مقابلہ میں ایک قیمتی ہتھیار ہے، ایسا ہتھیار جو آدمی کے پاس ہر وقت موجود رہتا ہے۔ اگر چہ بہت کم لوگ ہیں جو اس ہتھیار کو جانیں اور اس کو استعمال کریں۔ جو شخص مخالف کی بری بات سے بڑا اثر نہیں لیتا دہ اپنے اس مزاج سے ایک بہت بڑا اثاثہ اپنے لئے حاصل کرتا ہے، یہ کہ وہ مخالف کی بات کو بھی ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سن سکے اور اگر اس کے اندر کوئی صداقت ہے تو اس کو پالے ۔ تاریخ کی اکثر نادانیاں صرف اس بات کا نتیجہ تھیں کہ آدمی نے اپنے مخالف کی بات کو کھلے ذہن سے نہیں سنا۔ اس لحاظ سے دیکھئے تو بری بات سے اثر نہ لینا بجائے خود حکمت کا ایک خزانہ ہے۔ اور آدمی کی بہترین عقل مندی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس مفت کے خزانے سے محروم نہ کرے ۔
وقت کی اہمیت
نپولین (۱۸۲۱ء - ۱۷۶۹ء) دنیا کا ایک مشہور ترین فاتح ہے۔ اس نے بے شمار جنگی کامیابیاں حاصل کیں۔ قدرتی آفت کے سوا کوئی اس کو زیر نہ کر سکا۔ نپولین نے اپنی کامیابیوں کا راز ان الفاظ میں بیان کیا۔ ” میں اپنے حریفوں کے اوپر اس لئے غالب آتا ہوں کہ وہ لمحات جن کو لوگ کچھ نہیں سمجھتے ، میں ان کی اہمیت کو پالیتا ہوں اور ان کو فورا استعمال کرتا ہوں“ یہ ایک بے حد اہم بات ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بڑے بڑے مواقع اکثر چھوٹے لمحات میں آتے ہیں۔ ان لمحات کو جاننا اور ان کے مطابق فوری اقدام کرنا ہی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ ان نازک لمحات میں معمولی کوشش سے وہ کام ہو جاتا ہے جو بعد کو بڑی کوششوں سے بھی نہیں ہوتا۔ اس سلسلہ میں یہاں چند اقوال نقل کئے جاتے ہیں میں نے وقت کو برباد کیا تھا، اب وقت مجھے برباد کر رہا ہے شیکسپیئر
‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues