Al-Risala · March 1981 · page 7

برداشت کا اصول

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۷

خلاف کوئی بری کارروائی نہیں کرتا تو اس کا عمل بے شمار پہلوؤں سے اس کے لیے مفید بنتا ۔ اس کو برتر کردار پیش کرنے کی خوشی حاصل ہوتی ہے۔ مسئلہ کو لمبا کرنے کے بجائے وہ میں کا نہیں اسے ختم کر دیتا ہے۔ وہ اپنے وقت اور قوت کو منفی کارروائیوں سے بچا کر اپنی ترقی اور استحکام میں لگاتا ہے، دوسری طرف ایسا کر کے وہ اپنے مخالف کو اس کے اپنے ضمیر کے سامنے رسوا کر دیتا ہے۔ وہ اس کی دشمنانہ نفسیات کو دباتا ہے اور اس کے اندر چھپی ہوئی انسانیت کو ابھرنے کا موقع دیتا ہے۔ آپ کے ہر دشمن “ انسان کے اندر آپ کا ایک ” دوست “ انسان بھی چھپا ہوا ہے۔ اور دشمن کو معاف کرنا دراصل اس بات کی کوشش کرنا ہے کہ اس کے اندر چھپا ہوا آپ کا دوست انسان برآمد ہو جائے۔ ایک آدمی آپ کے ساتھ برائی کرے اور آپ بھی اس کے ساتھ برائی کرنے لگیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اور وہ دونوں برابر ہو گئے۔ آپ اس سے اچھے جب ہوتے جب کہ آپ برائی کا بدلہ اچھائی سے دیتے ۔ جب آپ نے وہی کیا جو دوسرے نے آپ کے ساتھ کیا تھا تو آپ میں اور دوسرے میں فرق کیا رہا۔ زبان پر قابو تامس فلر (۱۶۵۱-۱۷۳۴) ایک انگریز مصنف گزرا ہے۔ اس کا قول ہے "پرندے اپنے پاؤں کے باعث جال میں پھنستے ہیں اور انسان اپنی زبان کے باعث ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ سماجی زندگی میں اکثر مصیبتوں کی وجہ آدمی کی زبان ہوتی ہے۔ زبان کی بے احتیاطی گھر کے اندر اور گھر کے باہر آدمی کے لئے بے شمار مسائل پیدا کر دیتی ہے۔ آدمی اگر زبان کو قابو میں رکھے یا تم از کم ایسا کرے کہ نازک مواقع پر چپ رہے تو یقینی طور پر وہ بہت سی ناخوش گوار چیزوں سے بچ سکتا ہے۔ تمام مصلحین اور مفکرین نے زبان کے محتاط استعمال پر زور دیا ہے۔ یہاں اس سلسلے میں چند اقوال نقل کئے جاتے ہیں:

بری بات پر کم بھلی بات کے ذریعہ زیادہ آسانی کے ساتھ فتح پا سکتے ہو گوتم بدھ تلوار کے وار کی نسبت زبان کا وار زیادہ گہرا ہوتا ہے ہندی کہاوت خدا سے ڈرنے والے کی زبان گونگی ہو جاتی ہے فضیل بن عیاض زبان ہم کو اس لئے دی گئی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے خوش گوار باتیں کریں نہ کہ ایک دوسرے کو تکلیف پہنچائیں گوتم بدھ بیوقوف آدمی کا دل منھ میں ہوتا ہے اور عقل مند آدمی کی زبان دل میں شیکسپیئر خالی دماغ اور قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبان ایک دوسرے کے قریبی دوست ہیں اوڈن پیروں کی لغزش کے بعد سنبھلا جا سکتا ہے مگر زبان کی لغزش کے بعد سنبھلنا ممکن نہیں فرینکلن جاہل کی زبان اس کی مالک ہوتی ہے اور عقل مند کی زبان اس کی خادم عربی کہاوت دشمن بھی اچھی بات کہے تو اس کو قبول کرنے میں تامل نہ کرو سوامی شیدانند جو شخص ناپسندیدہ بات کہے گا وہ نا پسندیدہ بات سنے گا عربی کہاوت

‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues

Printed page