Al-Risala · March 1981 · page 11

خو کی رحمت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۱۱

خو کی رحمت

بارش کے موسم میں بارش نہ ہو تو کسان پریشان ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ بارش ہی کے اوپر کھیتی کا دارو مدار ہے۔ بارش سے کھیتوں میں فصل اگتی ہے۔ سال بھر کی روزی حاصل ہوتی ہے۔ بارش نہ ہو تو کسانوں کے کھیت ویران ہو جائیں، ہم کو اپنی خوراک کے لئے غلہ نہ ملے۔ اسی طرح ایک اور بارش ہے۔ یہ اللہ کا وہ فیضان ہے جس سے نیک عمل کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔ جس سے ہمارے ایمان کی زمین پر اسلامی کردار کی کھیتیاں اگتی ہیں۔ رہ اللہ کی توفیق نہ ملے تو ہمارے ایمان کی زمین سوکھی پڑی رہ جائے اور اس سے نیک اعمال کی وہ فصل نہ اگے جس سے کسی کے اوپر جنت کے دروازے کھلتے ہیں۔ توفیق کی اہمیت اسلامی کردار پیدا کرنے کے لئے ویسی ہی ہے جیسے بارش کی اہمیت کھیتوں سے فصل اگانے کے لئے۔

جب بادلوں والی بارش رکتی ہے تو کسان بے حد پریشان ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح عمل کی توفیق والی بارش بھی رکھتی ہے۔ اور مسلمان کو اس وقت بے چین ہو جانا چاہئے جب وہ دیکھے کہ اس کے اوپر توفیق الہیٰ کی بارش رک گئی ہے۔ اس کے اندر وہ جذبات نہیں امنڈ رہے ہیں جو اللہ کے پسندیوہ اعمال کا محرک بنتے ہیں۔

جب آپ کو ایک اچھی نماز پڑھنے کی سعادت ملتی ہے تو در حقیقت وہ رحمت الہی کی بارش کی ایک بوند ہوتی ہے جو آپ کے اوپر ٹپکتی ہے۔ جب آپ کو خالص اللہ کی خاطر روزہ رکھنا اور حج کرنا نصیب ہوتا ہے، جب آپ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی خوشی حاصل کرتے ہیں تو یہ سب بھی اللہ کی اسی بارش کے چھینٹے ہوتے ہیں جو آپ کو اللہ کی توفیق سے پہنچتے ہیں۔ اسی طرح جب اللہ کی یاد سے آپ کا دل بھر جاتا ہے۔ جب آپ کی آنکھیں اللہ کی راہ میں رونے کی توفیق پاتی ہیں۔ جب آپ کی زندگی میں درد کے دہ لمحات آتے ہیں جو آپ کو اللہ کے خوف و محبت سے تڑپا دینے والے ہوں تو یہ سب بھی اسی ان دیکھی بارش کا فیضان ہوتا ہے جو اللہ کی طرف سے آپ کے اوپر برستا ہے۔ جب آپ اپنے بھائی کی کوئی خدمت کرتے ہیں۔ جب دوسرے کے دکھ سے آپ کو دکھ اور دوسرے کے سکھ سے آپ کو سکھ پہنچتا ہے۔ جب آپ دل کی سچائی کے ساتھ ان کاموں میں سے کوئی کام کرتے ہیں جن کو بندوں کے حقوق کی ادائیگی کا نام دیا گیا ہے تو یہ سب اسی خدائی بارش کے چھینٹے ہوتے ہیں جو آپ کے اوپر اس کی رحمت خاص سے برستے ہیں۔

ہم سب مسلمان ہیں اور یہ خوشی کی بات ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ مگر یاد رکھئے مسلمان ہونا یا مسلمان گھر میں پیدا ہونا صرف یہ معنیٰ رکھتا ہے کہ آپ کو ایمان دا اسلام کی زمین حاصل ہے۔ مگر ہر کسان جانتا ہے کہ صرف زمین کا مالک ہونا کافی

‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues

Printed page