Al-Risala · March 1981 · page 12

خو کی رحمت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۱۲

نہیں۔ بلکہ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس زمین کو پانی کی سہولتیں حاصل ہوں۔ صحرا میں ہر طرف زمین ہی زمین ہوتی ہے مگر وہ کھیتی کے لئے بے کار ہے۔ وہاں ہری بھری فصل کے بجائے ہر وقت ریت اڑتی رہتی ہے۔ کیوں۔ اس لئے کہ وہاں پانی کا ایک قطرہ نہیں، ایک کسان صرف اس بات کو کافی نہیں سمجھتا کہ اس کے پاس کھیت موجود ہے۔ خواہ یہ کھیت ہزاروں ایکڑ سے بھی زیاوہ کیوں نہ ہو۔ کھیت سے فصل اگانے کے لئے ضروری ہے کہ خدا کی بارش اسے پہنچے۔ جب کھیت بارش سے سیراب ہوتا ہے اسی وقت وہ لہلہاتی ہوئی فصل کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح ہمارے لئے صرف یہ بات کافی نہیں کہ ہم ایمان واسلام کے مالک ہیں۔ اس کے ساتھ لازمی طور پر یہ بھی ضروری ہے کہ ہماری اسلامی زمین پر خدا کی توفیق کی بارش بھی ہورہی ہو۔

ہمارے دل میں اللہ سے خوف ومحبت کی وہ بوندیں ٹپکیں جو آدمی کے اندر رہانی ہل چل پیدا کرتی ہیں اور اس کو نیک کام کرنے پر ابھارتی ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ خدا کی اس بارش میں اس کو حصہ مل رہا ہے یا نہیں۔ اس کے اوپر رحمتوں کا دہ فیضان برس رہا ہے یا نہیں جس سے خدا کے پسندیدہ اعمال کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ اگر اس روحانی بارش کی بوندیں آپ کے اوپر ٹپک رہی ہوں تو خدا کا شکر ادا کیجئے، کیوں کہ یہ سب سے بڑی نعمت ہے جو اس دنیا میں کسی کو ملتی ہے۔ اور اگر اس بارش کے چھینٹے آپ کی ہستی کو نم نہ کر رہے ہوں تو آپ کو اس سے زیادہ بے چین ہو جانا چاہئے جتنا کوئی کسان اس وقت بے چین ہوتا ہے جب کہ بادل اس کی زمین پر بارش برسانے سے رک گئے ہوں۔ کیوں کہ بادلوں والی بارش کسی کو صرف ایک سال کے غلہ سے محروم کرتی ہے۔ جب کہ توفیق عمل کی بارش کا رکنا آدمی کو اس سخت ترین اندیشہ میں مبتلا کر دیتا ہے کہ وہ آخرت کی ابدی زندگی میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہو جائے۔

کوئی آدمی نماز روزہ اور اس طرح کے دوسرے اعمال کر رہا ہے۔ مگر ان کی حیثیت اس کے لئے ایسی ہے جیسے کچھ بے روح رسم ہو جس کو وقت پر ادا کر لیا جائے ، تب بھی اس کو مطمئن نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہی عمل اسلامی عمل ہے جس کے ساتھ آدمی کے دل کی دھڑکنیں شامل ہو جائیں، جس کے اندر اس کی روح کی بیتابیاں گھل مل گئی ہوں۔ جو عمل آدمی کی زندگی کا محض ایک خشک ضمیمہ ہے وہ محض ایک بے فائدہ رسم ہے جس کی کوئی قیمت نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں۔

ہم میں سے ہر شخص کو اس اعتبار سے اپنا جائزہ لینا چاہئے۔ اگر بارش برسانے والے بادل رک جائیں تو ہم استسقائی نماز پڑھتے ہیں۔ لوگ پانی حاصل کرنے کے دوسرے طریقوں کی طرف دوڑنا شروع کرتے ہیں۔ اسی

‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues

Printed page