خدائی اہتمام
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۱۶
سے ہے۔ قرآن کے الفاظ کی حفاظت جو مسلمانوں کے ہاتھوں ہورہی ہے یہی دراصل وہ چیز یں ہے جو قرآن کے سلسلے میں اللہ کو ہم سے مطلوب ہو۔ یہ کام تو خود خدا کے براہ راست اہتمام میں ہورہا ہے، پھر ہمارا اس میں کیا کمال۔ جو لوگ اس حفاظتی کام میں مشغول ہیں وہ اپنے اخلاص کے بقدر اپنا معاوضہ پائیں گے۔ مگر یہی امت مسلمہ کی اصل ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ کام خواہ کتنے ہی اخلاص کے ساتھ اور کتنے ہی بڑے پیمانے پر کیا جائے، اس سے ہماری اصل ذمہ داری ساقط نہیں ہوسکتی۔
حقیقت یہ ہے کہ پچھلی قوموں کا امتحان حفاظت متن میں تھا، امت مسلمہ کا امتحان حفاظت معانی میں ہے۔ پچھلے زمانوں میں جو لوگ کتاب خداوندی کے حامل بنا لے گئے ان کی آزمائش معانی کی حفاظت کے ساتھ یکساں طور پر متن کی حفاظت میں بھی تھی۔ مگر مسلمانوں کی آزمائش سب سے بڑھ کر معانی کی حفاظت میں ہے ۔ مسلمانوں کو قرآن کے سلسلے میں جس چیز کا ثبوت دینا ہے وہ یہ کہ وہ قرآن کی تشریح و تعبیر میں فرق نہ کریں۔ قرآن میں جس چیز کو جس درجہ میں رکھا گیا ہے اس کو اسی درجہ میں رکھیں۔ وہ قرآن کے نشانہ میں کوئی تفسیری تبدیلی نہ کریں۔ قرآن کو دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہوئے وہ اسی بات کو پیش کریں جو خود قرآن میں عربی زبان میں اتاری گئی ہے نہ کہ اپنی خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ ایک نیا دین بنائیں اور اس کو قرآن کے نام پر لوگوں کے سامنے پیش کرنے لگیں۔
مسلمانوں کا قرآن کا حامل بننے میں ناکام ہونا یہ ہے کہ وہ قرآن کو برکت اور ثواب کی کتاب بنادیں اور اپنے دین کی گاڑی عملاً دوسری دوسری بنیادوں پر چلانے لگیں۔ کوئی مسائل کے نام پر سرگرمی دکھانے لگے اور کوئی فضائل کے نام پر۔ کوئی بزرگوں کے ملفوظات اور کہانیوں کو دین کی بنیاد بنائے اور کوئی جلسوں اور تقریروں کی دھوم مچانے نہ کو۔ کوئی قرآن کو اپنی سیاسی تحریک کا ضمیمہ بنا لے اور کوئی اپنے قومی ہنگاموں کا۔ قرآن کے نام پر یہ تمام سرگرمیاں قرآن کے معانی میں تحریف کا درجہ رکھتی ہیں۔ مسلمان اگر قرآن کے معانی کے ساتھ اس قسم کا معاملہ کر رہے ہوں تو وہ صرف اس بنا پر خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے کہ قرآن کے الفاظ کی حفاظت اور تکرار میں انھوں نے کمی نہیں کی تھی۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ کتاب الہی کی حامل دوسری قوموں کو جو سزا متن کتاب کی تبدیلی پر دی گئی وہ سزا مسلمانوں کو معانی کتاب کی تبدیلی پر ملے گی۔ مسلمانوں کا اصل امتحان جہاں ہورہا ہے وہ یہی ہے۔ اگر وہ کتاب اللہ کے معانی کو اپنی خود ساختہ تعبیرات سے بدل ڈالیں تو وہ صرف اس لئے خدا کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے کہ انھوں نے کتاب کے متن میں کوئی تبدیلی نہیں کی تھی۔ کیونکہ امتحان آدمی کے اپنے دائرہ اختیار میں ہوتا ہے۔ اور مسلمانوں کو جہاں اختیار حاصل ہے وہ قرآن کے معانی میں تبدیلی ہے نہ کہ قرآن کے متن میں تبدیلی ۔ متن قرآن میں تبدیلی سے تو خدا نے تمام قوموں کو عاجز کر رکھا ہے ، پھر وہاں کسی کا امتحان کس طرح ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues