خدائی اہتمام
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۱۵
شروع ہوا۔ یہ سلسلہ یہاں تک پھیلا کہ قدیم آباد دنیا کے بیشتر حصہ پر مسلمان قابض ہو گئے اور انھوں نے دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے مضبوط سلطنت قائم کی۔ یہ سلطنت کسی طاقت سے مغلوب ہوئے بغیر مسلسل قائم رہی اور قرآن کی حفاظت کرتی رہی۔ یہ سلسلہ ایک ہزار سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ زمانہ پریس کے دور میں پہنچ گیا اور قرآن کے ضائع ہونے کا امکان سرے سے ختم ہو گیا۔
پریس کے دور میں یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کسی کتاب کا ایک نسخہ لکھا جائے اور اس کو چھاپ کر ایک ہی قسم کے کروڑوں نسخے تیار کر لیے جائیں۔ مگر پہلے ایسا ممکن نہ تھا۔ قدیم زمانہ میں کتاب کا ہر نسخہ الگ ہاتھ سے لکھا جاتا تھا۔ اس کی وجہ سے اکثر ایک نسخہ اور دوسرے نسخہ میں کچھ نہ کچھ فرق ہو جاتا تھا۔ چنانچہ قدیم کتابوں میں سے جو کتاب بھی آج دنیا میں پائی جاتی ہے اس کے مختلف قلمی نسخوں میں سے کوئی بھی دو نسخہ ایسا نہیں جو فرق سے خالی ہو۔ یہ صرف قرآن ہے جس کے لاکھوں نسخے قدیم زمانہ میں ہاتھ سے لکھ کر تیار کئے گئے ۔ ان کی ایک بڑی تعداد آج بھی میوزیم اور کتب خانوں میں موجود ہے۔ مگر ایک قلمی نسخہ اور دوسرے قلمی نسخہ میں کوئی ادنیٰ فرق نہیں پایا جاتا۔ یہ خدا کی خصوصی مدد تھی جس نے قرآن کے بارے میں مسلمانوں کو اتنا زیادہ مستعد اور حساس بنا دیا اسی کے ساتھ خدا نے یہ انتظام کیا کہ قرآن کے حفظ رٹ کر اس کے متن کو یاد کرنے) کا نادر طریقہ شروع ہوا جو اس سے پہلے معلوم تاریخ میں کبھی کسی کتاب کے لئے نہیں کیا گیا تھا۔ ہزاروں لاکھوں لوگوں کے دل میں یہ جذبہ ابھر آیا کہ وہ قرآن کے متن کو شروع سے آخر تک یاد کریں اور یاد رکھیں۔ اس طرح کے افراد تاریخ کے ہر دور میں ہزاروں کی تعداد میں پیدا ہوتے رہے۔ یہ سلسلہ قرآن کے زمانہ سے شروع ہو کر آج تک جاری ہے۔ معلوم تاریخ کے مطابق دنیا میں کوئی بھی دوسری کتاب نہیں ہے جس کے ماننے والوں نے اس طرح اس کو یاد کرنے کا اہتمام کیا ہو جس طرح قرآن کے ماننے والے ہر دور میں کرتے رہے ہیں۔ قرآن کو یاد کرنے کے رواج نے اس کی حفاظت کے اس انوکھے انتظام کو ممکن بنا دیا جس کو ایک فرانسیسی مستشرق نے دہرا جانچ (Double Checking) کا طریقہ کہا ہے یعنی ایک لکھے ہوئے نسخہ کو دوسرے لکھے ہوئے نسخہ سے ملانا اور اسی کے ساتھ حافظہ کی مدد سے اس کی صحت کو جانچتے رہنا۔
ڈیڑھ ہزار برس کی اسلامی تاریخ میں یہ جو کچھ ہوا خدا کی طرف سے ہوا۔ امتحانی حالات کو باقی رکھنے کے لئے اگر چہ اس کو اسباب کے پردہ میں انجام دیا گیا ہے۔ تاہم جب قیامت آئے گی اور تمام حقیقتیں برہنہ کر دی جائیں گی اس وقت لوگ دیکھیں گے کہ عرب کے اسلامی انقلاب سے لے کر دورِ پریس کے نئے حفاظتی طریقوں تک سارے کام خدا خود اپنے فرشتوں کی معرفت کرا رہا تھا اگر چہ ظاہری طور پر وہ کچھ ہاتھوں کو اس کا ذریعہ بناتا رہا۔ قرآن کے بارے میں خدا کے اس خصوصی انتظام کا ایک اور اہم پہلو ہے جس کا تعلق مخصوص طور پر مسلمانوں
‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues