Al-Risala · March 1981 · page 4

وحید الدین ۲۷ دسمبر ۱۹۸۰

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۴

پہلے کبھی کوئی موجود تھا جس نے اس کو پیدا کیا۔ اگر کہا جائے کہ پیدا کرنے والا بھی کسی پچھلے "25 نومبر" کو پیدا ہوا تھا تو یہ بات بالکل بے معنی ہوگی۔ پیدا کرنے والا اگر پچھلے کسی 25 نومبر کو پیدا ہونے والا ہو تو وہ بھی پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ خالق ہمیشہ سے تھا، اسی لئے اس نے غیر ہمیشہ کو پیدا کیا، اگر وہ ہمیشہ سے نہ ہوتا تو وہ سرے سے موجود نہ ہوتا۔ پھر غیر ہمیشہ کا وجود کہاں سے آتا۔

خدا ازلی ہے اور اسی لئے خدا ایک کامل ہستی ہے۔ کیونکہ ازلیت کمال کا سب سے بڑا وصف ہے۔ جو ازلی ہو وہ لازماً کامل بھی ہوگا۔ ازلیت اور کمال دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔ موجودہ دنیا خدا کی صفات کا ایک ظہور ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں کمی اور محدودیت کا ہونا بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا خدا کی صفات کا کامل ظہور نہیں۔ کامل اور ابدی خدا کی صفات کا کامل ظہور وہی ہے جو خود بھی کامل اور ابدی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری دنیا کو ابھی ایک اور دنیا کا انتظار ہے، خدا کی صفات کا ظہور اپنی تکمیل کے لئے ابھی ایک اور ظہور کا تقاضا کرتا ہے۔

جنت خدا کی وہ دنیا ہے جہاں اس کی صفات اپنے پورے کمال کے ساتھ ظاہر ہوں گی۔ جنت ان تمام کمیوں سے پاک ہوگی جن کا ہم آج کی دنیا میں تجربہ کرتے ہیں۔ جنت خدا کی اس قدرت کاملہ کا مظہر ہے کہ وہ چین میں ابدیت کی شان پیدا کر سکتا ہے، وہ لذت کو لامحدود بنانے کا اختیار رکھتا ہے۔ وہ ایسی دنیا کی تخلیق کر سکتا ہے جہاں اتھاہ سکون ہو اور جس کا حسن کبھی ختم نہ ہو سکے۔

ہر آدمی ایک ان دیکھے سکون کی تلاش میں ہے۔ ہر آدمی ایک ایسی مکمل دنیا کا طالب ہے جس کو وہ ابھی تک پا نہ سکا۔ یہ طلب موجودہ کائنات میں اجنبی نہیں۔ جو کائنات ایک ازلی خدا کی شہادت دے رہی ہو وہاں ازلی خوبیوں کی ایک دنیا کا ظہور اتنا ہی ممکن ہے جتنا خود موجودہ غیر ازلی دنیا کا ظہور۔ کیونکہ جس کائنات کا خالق اپنی ذات میں ازلی ہو وہ اپنی صفات کے غیر ازلی ظہور پر اکتفا نہیں کر سکتا۔ جس خدا نے نیست سے ہست کو پیدا کیا وہ یقیناً ہست میں ابدیت کی شان بھی پیدا کر سکتا ہے، اور یقیناً دوسرا کارنامہ پہلے کارنامہ سے کچھ مشکل نہیں۔ ازلیت ایک خاص الخاص خدائی صفت ہے، اس صفت میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ ازلیت

‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues

Printed page