Al-Risala · March 1981 · page 5

وحید الدین ۲۷ دسمبر ۱۹۸۰

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۵

اعلیٰ ترین کمال ہے جو صرف ایک خدا کے لئے سزاوار ہے۔ وہ جنت جو خدا کی صفتِ ازلیت کا ظہور ہو وہ ایسی عجیب و غریب چیز ہوگی جس کا آج کوئی انسان تصور نہیں کر سکتا۔ وہ حسن جس کے لئے کبھی مرجھانا نہ ہو، وہ لذت جو کبھی ختم ہونے والی نہ ہو، وہ عیش جس کا تسلسل ابدی طور پر باقی رہے، امیدوں اور تمناؤں کی وہ دنیا جس کے کمالات پر کبھی کوئی زوال نہ آئے ، ایسی جنتی دنیا اتنی حیرت ناک حد تک لذیذ ہوگی کہ آدمی نیند کے بقدر بھی اس سے انقطاع نہ چاہے گا خواہ اس پر اربوں اور کھربوں سال کیوں نہ گزر جائیں۔ انسان ہمیشہ ایک ایسی زندگی کی تلاش میں رہتا ہے جس میں اس کو ابدی آرام حاصل ہو۔ یہ تلاش صحیح بھی ہے اور انسانی فطرت کے مطابق بھی ۔ مگر ہمارے خوابوں کی یہ زندگی ہمیں موجودہ دنیا میں نہیں مل سکتی۔ موجودہ دنیا میں ابدی خوشیوں کا نظام بننا ممکن نہیں۔ یہاں وہ اسباب موجود ہی نہیں جو ابدی خوشیوں اور راحتوں کی دنیا کو ظہور میں لانے کے لئے ضروری ہیں۔

پیغمبر نے بتایا کہ موجودہ دنیا کو خدا نے امتحان کی جگہ بنایا ہے نہ کہ انعام پانے کی جگہ۔ یہاں صرف وہ اسباب جمع کئے گئے ہیں جو آدمی کے امتحان کے لئے ضروری ہیں۔ خوشیوں اور راحتوں کی ابدی زندگی حاصل کرنے کے لئے جو اسباب درکار ہیں وہ دوسری دنیا میں فراہم ہوں گے جو موجودہ دنیا کے بعد ہمارے سامنے آنے والی ہے۔ ہمارے اور اس اگلی دنیا کے درمیان موت کا فاصلہ ہے۔ موت آدمی کے امتحان کی تکمیل کا وقت ہے اور اسی کے ساتھ آگے کی ابدی دنیا میں داخل ہونے کا بھی۔

جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کو اس کے خوابوں کی زندگی ملے ، اس کو موجودہ دنیا میں اپنی ” جنت “ بنانے کی بے فائدہ کوشش میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ اس کے بجائے اس کو یہ کوشش کرنا چاہئے کہ وہ آج کی دنیا میں ہونے والے امتحان میں پورا اترے۔ وہ دنیا میں خدا کا بندہ بن کر زندگی گزارے۔ وہ پیغمبر کی پیروی کو اپنا طریقہ بنائے۔ وہ اپنی آزادی کو خدا کے احکام کی پابندی میں دے دے ۔ جو لوگ آج کے امتحان میں پورے اتریں گے وہ اگلی زندگی میں اپنے خوابوں کی دنیا کو پائیں گے۔ جو لوگ امتحان میں ناکام رہیں گے وہ زندگی کے اگلے مرحلے میں اس حال میں پہنچیں گے کہ ابدی بربادی کے سوا اور کوئی چیز نہ ہوگی جو وہاں ان کا استقبال کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues

Printed page