Al-Risala · March 1981 · page 9

خطرہ کا الارم

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۹

خطرہ کا الارم

زندگی کی حقیقت کیا ہے، عام آدمی اس قسم کے سوالات میں پڑنا پسند نہیں کرتا۔ وہ خیال کرتا ہے کہ جو کچھ ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے۔ یہاں عزت اور آرام کے ساتھ اپنی عمر پوری کر لو۔ اس کے بعد نہ تم ہو گے اور نہ تمھارا کوئی مسئلہ۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو اس سوال کے بارے میں سوچتے ہیں۔ مگر ان کا سوچنا فلسفیانہ انداز کا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کی ساری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ سامنے کی دنیا کی کوئی نظریاتی توجیہہ حاصل کر لیں۔ اس قسم کی فلسفیانہ توجیہات، تعداد میں مختلف ہونے کے باوجود، صرف توجیہات ہیں۔ وہ آدمی کے لئے کوئی ذاتی مسئلہ پیدا نہیں کرتیں۔ ایک روح عالم اپنی تکمیل کے لئے پورے کارخانہ کو چلا رہی ہے یا تمام چیزیں کسی بالاتر وجود کے اجزا رہیں، اس قسم کی نظریاتی بحثوں سے ایک آدمی کا ذاتی تعلق کیا ہے۔ تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جن کے پاس اس سوال کا کوئی نہ کوئی مذہبی جواب ہے۔ مگر ان میں بھی آدمی کے لئے کوئی سنگینی کا پہلو نہیں۔ ان میں سے کسی کے نزدیک خدا کا بیٹا تمام انسانوں کے گناہوں کا کفارہ بن چکا ہے۔ کسی کے نزدیک زندگی ہمارے شعور سے بالاتر ایک جبری چکر ہے۔ آدمی ایک جبری نظام کے تحت اپنے آپ بار بار پیدا ہوتا ہے اور بار بار مرتا ہے۔ کوئی بتاتا ہے کہ آدمی کی جو کچھ جزا و سزا ہے اسی دنیا کی زندگی میں ہے، وغیرہ۔

زندگی کے مسئلہ کے بارے میں اس قسم کے جتنے بھی جوابات ہیں وہ باہم ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں۔ مگر اس حیثیت سے سب ایک ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو ایک ایک آدمی کے لئے ذاتی طور پر کوئی سنگین مسئلہ پیدا کرتا ہو۔ یہ جوابات یا تو جو کچھ ہو رہا ہے اس کی محض توجیہات ہیں یا ہمارے لئے صرف ایک قسم کی روحانی تسکین فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں۔ وہ اس نوعیت کی کوئی چیز نہیں ہیں جس کو کسی بڑے خطرہ کا الارم کہا جائے۔

مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب ان تمام جوابات سے سراسر مختلف ہے۔ دوسرے جوابات میں سے کوئی جواب بھی آدمی کے لئے ذاتی سوال نہیں بنتا، وہ آدمی کے لئے کوئی نازک مسئلہ کھڑا نہیں کرتا۔ مگر پیغمبر اسلام کا جواب ایک ایک آدمی کو ایسے خطرناک کنارے پر کھڑا کر رہا ہے جس کے بعد اس کا اگلا قدم یا تو تباہی

‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues

Printed page