سچائی کیا ہے
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۸
تمام پیغمبر روایات کے اندھیرے میں گم ہیں، ان کے بارے میں مکمل تاریخی معلومات حاصل نہیں۔ اور نہ ان کی چھوڑی ہوئی کتاب آج اپنی اصل صورت میں محفوظ ہے۔ یہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کی زندگی تاریخی طور پر پوری طرح معلوم ہے۔ اور وہ کتاب بھی ادنیٰ تبدیلی کے بغیر کامل صورت میں موجود ہے جس کو آپ نے یہ کہہ کر لوگوں کے حوالے کیا تھا کہ یہ میرے پاس خدا کی طرف سے آئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خالص علمی عقلی اعتبار سے دیکھا جائے تو ’’سچائی کیا ہے‘‘ کے سوال کا جواب نہ صرف نظری طور پر ایک ہے بلکہ علمی طور پر بھی میدان میں صرف ایک ہی جواب موجود ہے۔ یہاں دوسرا کوئی جواب حقیقی طور پر موجود ہی نہیں۔ ہمیں بہت سے جوابات میں سے ایک جواب کو چننا نہیں ہے بلکہ ایک ہی موجود جواب کو اختیار کرنا ہے یہ سچائی خدا کی بات ہے اور خدا کی بات ہمیشہ ایک رہتی ہے۔ جس طرح دنیا کی دوسری چیزوں کے لئے خدا کا حکم ہمیشہ سے ایک ہے، اسی طرح انسان کے لئے بھی خدا کا حکم ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا۔ زمین و آسمان کا قانون اربوں سال گزرنے پر بھی نہیں بدلتا۔ درخت اور پانی کے اصول جو ایک جغرافیہ میں ہوتے ہیں وہی دوسرے جغرافیہ میں ہوتے ہیں، یہی حال انسان کے بارے میں خدا کے حکم کا بھی ہے۔ انسان کے بارے میں خدا کا جو حکم ہے وہ وہی آج بھی ہے جو ہزاروں سال پہلے تھا۔ وہ ایک ملک کے انسانوں کے لئے بھی وہی ہے جو دوسرے ملک کے انسانوں کے لئے۔
زندگی کے کچھ پہلو ایسے ہیں جو بدلتے رہتے ہیں ۔ مثلاً سواریاں، مکانات وغیرہ ۔ مگر سچائی کا تعلق اس قسم کی چیزوں سے نہیں۔ سچائی کا تعلق اُس انسان سے ہے جو ہمیشہ ایک حالت میں رہتا ہے۔ سچائی کا تعلق اُس سے ہے کہ آدمی کس کو اپنا خالق و مالک سمجھے۔ وہ کس کے آگے جھکے اور کس کی عبادت کرے۔ وہ کس سے ڈرے اور کس سے محبت کرے۔ وہ اپنی کامیابی اور ناکامی کو کس معیار سے جانچے۔ اس کی زندگی کا مقصد اور اس کے جذبات کا مرکز کیا ہو۔ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے وہ کن قواعد کے تحت ان سے معاملہ کرے۔ سچائی کا تعلق زندگی کے انہیں امور سے ہے، اور یہ امور وہ ہیں جن کا کوئی تعلق زمانہ یا جغرافیہ سے نہیں۔ وہ ہر مقام پر اور ہر زمانہ میں یکساں طور پر ہر ایک سے مطلوب ہوتے ہیں۔ خدا ایک ہے اور ابدی ہے۔ ٹھیک اسی طرح سچائی بھی ایک ہے اور اسی کے ساتھ ابدی بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues