خطرہ کا الارم
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۱۱
بجائے خود قابل اعتماد نہیں۔ ماضی کی کسی چیز کی صداقت کو جانچنے کا معیار تاریخ ہے اور ان تعلیمات کو تاریخ کی تصدیق حاصل نہیں۔
مگر پیغمبر اسلام کا معاملہ سراسر مختلف ہے۔ ایک طرف کہ کسی شخص کے پیغمبر خدا ہونے کا جو بھی معیار مقرر کیا جائے، اس پر آپ کامل طور پر پورے اترتے ہیں۔ آپ کی زندگی میں وہ تمام عناصر تمام و کمال موجود ہیں جو خدا کے ایک پیغمبر میں ہونے چاہئیں۔ آپ کی پیغمبری ایک ایسا ثابت شدہ واقعہ ہے جس سے انکار کسی حال میں ممکن نہیں۔
دوسرے یہ کہ آپ کی زندگی اور آپ کی تعلیمات اتنی صحت کے ساتھ آج بھی ہمارے پاس موجود ہیں کہ ان کی تاریخی اعتباریت کے بارے میں کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کا دیا ہوا قرآن آج بھی اسی طرح لفظ بلفظ موجود ہے جس طرح آپ نے اس کو دیا تھا۔ آپ کا قول و عمل اس طرح صحت کے ساتھ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہے جیسے کہ آج بھی آپ ہمارے سامنے بول رہے ہوں اور چل پھر رہے ہوں۔ بغیر کسی ادنی شبہ کے آدمی آج بھی یہ معلوم کر سکتا ہے کہ آپ نے کیا کہا اور کیا کیا۔
پیغمبر کی چیتاونی کے مطابق ہم ایک ایسی حقیقت سے دوچار ہیں جس کو ہم بدل نہیں سکتے۔ ہم مجبور ہیں کہ اس کا سامنا کریں۔ موت یا خودکشی سے بھی ہم معدوم نہیں ہوتے بلکہ صرف دوسری دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ کامیابی یا ناکامی کا ایک نقشہ خالق نے ابدی طور پر بنا دیا ہے۔ کسی کے لئے ممکن نہیں کہ وہ اس خدائی نقشہ کو بدل دے یا اپنے آپ کو اس سے مستثنیٰ کر لے۔ ہم کو صرف یہ اختیار ہے کہ جنت یا جہنم میں سے کسی ایک کو چن لیں۔ ہم کو یہ اختیار نہیں کہ دونوں سے الگ ہو کر اپنے لئے کسی تیسرے انجام کی تخلیق کریں۔
رصد گاہ اگر بھونچال کی خبر دے تو یہ ایک ایسے آنے والے حادثہ کی خبر ہوتی ہے جس میں فیصلہ کا اختیار تمام تر دوسرے فریق کو ہوتا ہے، دوچار ہونے والے کو اس میں کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ آدمی یا تو اس سے بھاگ کر اپنے کو بچائے یا اس میں ٹکر کرا اپنے کو برباد کر لے۔ اسی طرح قیامت بھی ایک ایسا بھونچال ہے جس میں آدمی یا تو پیغمبر کی بتائی ہوئی تدبیر اختیار کر کے اپنے کو بچائے گا یا اس کو نظر انداز کر کے اپنے کو ابدی ہلاکت میں مبتلا کرے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues