پیغمبر خدا کی تعلیمات
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۱۲
پیغمبر خدا کی تعلیمات
خدا کا دین ایک دین ہے۔ تمام پیغمبروں کے ذریعہ ایک ہی دین ہمیشہ بھیجا جاتا رہا ہے۔ مگر انسان نے اپنی غفلت کی وجہ سے یا تو اس کو ضائع کر دیا یا اس کو بدل ڈالا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اسی خدائی دین کو دوبارہ زندہ کیا گیا۔ اور اس کو اس کی اصلی شکل میں پیش کر کے ہمیشہ کے لئے کتابی صورت میں محفوظ کر دیا گیا۔ اب تمام انسانوں کے لئے قیامت تک یہی مستند دین ہے۔ خدا کی قربت اور آخرت کی نجات حاصل کرنے کا اس کے سوا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں۔
آپ نے بتایا کہ خدا ایک ہے اس کا کسی بھی اعتبار سے کوئی شریک نہیں۔ اسی نے تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے اور اسی کو ہر قسم کی طاقتیں حاصل ہیں۔ انسان کو چاہئے کہ صرف اسی کے آگے جھکے اور اسی کی عبادت کرے۔ اسی سے مانگے اور اسی سے امیدیں قائم کرے۔ خدا اگر چہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا مگر وہ انسان سے اتنا قریب ہے کہ جب بھی آدمی اس کو پکارتا ہے وہ اس کی پکار کو سنتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے۔ خدا کے نزدیک کسی انسان کا یہ سب سے بڑا گناہ ہے کہ وہ کسی اعتبار سے کسی کو خدا کا شریک یا اس کے برابر ٹھہرائے۔ کوئی انسان یا غیر انسان ایسا نہیں جس کو خدا اور بندوں کے درمیان وسیلہ یا واسطہ کا مقام حاصل ہو۔ انسان جب بھی خدا کو یاد کرتا ہے، وہ براہ راست خدا سے مربوط ہو جاتا ہے۔ انسان کو اپنے خالق و مالک سے جڑنے کے لئے کسی درمیانی وسیلہ کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح آخرت میں بھی کوئی خدا کی عدالت میں کسی کا سفارشی نہیں بن سکتا۔ خدا اپنے ہر بندے کا فیصلہ خود اپنے علم کے مطابق کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کے فیصلہ پر اثر انداز ہو سکے۔ خدا اپنا فیصلہ کرنے میں کسی کا پابند نہیں۔ خدا کے تمام فیصلے حکمت اور انصاف کی بنیاد پر ہوتے ہیں نہ کہ سفارش یا تقرب کی بنیاد پر۔
خدا کی عبادت کوئی عملیاتی ضمیمہ نہیں ہے۔ یہ پوری زندگی کے ساتھ خدا کے آگے جھک جانا ہے۔ خدا کی عبادت کرنے والا وہی ہے جو خدا کا عابد اس طرح بنے کہ خدا ہی اس کا سب کچھ ہو جائے، وہ اسی کی پرستش کرے، اسی سے ڈرے، اسی کو چاہے، اسی سے امید باندھے، وہ اس کو اپنی تمام تو جہات اور سرگرمیوں کا مرکز بنا لے۔ خدا کی عبادت خدا کے سامنے کامل حوالگی کا نام ہے نہ کہ محض کسی رسم کی وقتی بجا آوری کا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues