Al-Risala · March 1981 · page 15

موت کی طرف

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۱۵

موت کی طرف

موت ہر ایک پر آنی ہے۔ کوئی اس سے بچ نہیں سکتا۔ تاہم موتیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جب کہ آدمی اللہ کو اپنا مقصود بنائے ہوئے ہو۔ وہ اللہ کے لئے بولتا ہو اور اللہ کے لئے چپ ہوتا ہو۔ اس کی توجہ تمام تر آخرت کی طرف لگی ہوئی ہو۔ ایسے آدمی کے لئے موت کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف سفر کر رہا تھا اور موت کے فرشتہ نے اس کے سفر کو مختصر کر کے اس کو اس کی منزل تک پہنچا دیا۔

دوسرا آدمی وہ ہے جس نے اپنے مالک کو بھلا رکھا ہے۔ اس کا رکنا اور اس کا چلنا اللہ کے لئے نہیں ہوتا۔ وہ اپنے رب کو چھوڑ کر کسی اور طرف بھاگ رہا ہے۔ ایسے شخص کے لئے موت کا دن اس کی گرفتاری کا دن ہے۔ اس کی مثال اس باغی کی سی ہے جو چند دن سرکشی دکھائے اور اس کے بعد اس کو پکڑ کر عدالت میں حاضر کر دیا جائے بظاہر ایک ہی موت ہے جو دونوں آدمیوں پر آتی ہے۔ مگر دونوں میں اتنا ہی فرق ہے جتنا پھول اور آگ میں۔ ایک کے لئے موت رب العالمین کا مہمان بننا ہے اور دوسرے کے لئے موت رب العالمین کے قید خانہ میں ڈالا جانا۔ ایک کے لئے موت جنت کے باغوں میں داخلہ کا دروازہ ہے اور دوسرے کے لئے موت وہ دن ہے جب کہ اس کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں پھینک دیا جاتا ہے تاکہ اپنی سرکشی کے جرم میں وہاں وہ ابدی طور پر جلتا رہے۔ مومن اور غیر مومن کی تعریف یہ ہے کہ مومن وہ ہے جس کی نگاہیں موت کے مسائل کی طرف لگی ہوئی ہوں، جو موت کے بعد آنے والی دنیا میں عزت حاصل کرنے کو اپنی تمام تو جہات کا مرکز بنائے ہوئے ہو۔ اس کے برعکس غیر مومن وہ ہے جو زندگی کے مسائل میں الجھا ہوا ہو، جو موجودہ دنیا میں عزت اور کامیابی حاصل کرنے کو سب سے بڑی چیز سمجھتا ہو۔ آج کے حالات میں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کامیاب وہی ہے جو موجودہ دنیا میں اپنی جڑیں مضبوط کئے ہوئے ہو۔ مگر موت اس فریب کو مکمل طور پر ڈھادے گی ۔ اس کے بعد اچانک یہ معلوم ہوگا کہ وہی شخص مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہو اتھا جس کو دنیا والوں نے بے بنیاد سمجھ لیا تھا اور وہ تمام لوگ بالکل بے حقیقت تھے جو موت سے پہلے کے حالات میں بظاہر عزت اور ترقی کی بلندیوں پر بیٹھے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ موت ہر چیز کو باطل کر دے گی اور اس کے بعد ہی چیز بچے گی جس کی عالم آخرت میں کوئی قیمت ہو۔ سچائی کی پکار پر دھیان نہ دینا ہمیشہ اس لئے ہوتا ہے کہ آدمی کے سامنے صرف موت سے پہلے کی دنیا ہوتی ہے۔ آدمی اگر موت کے بعد کی دنیا کو دیکھ لے تو آج ہی وہ اس خدا کے آگے جھک جائے جس کے آگے اسے کل جھکنا ہے، اگرچہ کل کا جھکنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues

Printed page