Al-Risala · March 1981 · page 14

پیغمبر خدا کی تعلیمات

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۱۴

زندگی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک زندگی وہ ہے جو آخرت کی بنیاد پر بنتی ہے۔ دوسری زندگی وہ ہے جو دنیا کی بنیاد پر بنتی ہے۔ آخرت کی بنیاد پر بننے والی زندگی میں رہنمائی کا مقام بغیر کہو حاصل رہتا ہے۔ آدمی پیغمبر کے بتانے کے مطابق اپنا عقیدہ بناتا ہے اور اسی کے بتانے کے مطابق اپنی زندگی کو چلاتا ہے۔ اس کے برعکس جو زندگی دنیا کی بنیاد پر بنتی ہے اس میں آدمی اپنا رہنما آپ ہوتا ہے اور اپنی عقل یا نفس کے مطابق اپنے فکر و عمل کا ڈھانچہ بناتا ہے۔ پہلا اگر خدا کا پرستار ہوتا ہے تو دوسرا خود اپنا۔

پیغمبر کی رہنمائی میں جو زندگی بنتی ہے اس کے اجزاء ہوتے ہیں ــــــ خدا پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، خدا کی کتابوں پر ایمان، خدا کے رسولوں پر ایمان، قیامت اور زندگی بعد موت پر ایمان، انت دوزخ پر ایمان، اللہ کے مالک اور حاكم ہونے پر ایمان۔ اس ایمانیات کے تحت جو انسان بنتا ہے وہ ایسا انسان ہوتا ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کئے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کی زندگی کی تمام سرگرمیاں آخرت رخی بن جاتی ہیں۔ اس کی عبادت، اس کی قربانیاں ، اس کا جینا اور اس کا مرنا سب اللہ اور رسول کے لئے ہو جاتا ہے۔

جو زندگی خود اپنی رہنمائی میں بنے وہ ایک آزاد اور بے قید زندگی ہوتی ہے، اس میں آدمی کو اس سے بحث نہیں ہوتی کہ حقیقت کیا ہے۔ وہ اپنے خیالات کے مطابق اپنی پسند کا عقیدہ بنا لیتا ہے۔ اس کے صبح و شام خود اپنی عقل یا نفس کی رہنمائی میں بسر ہوتے ہیں۔ اس کی سرگرمیاں تمام تر دنیا کے فائدوں کے گرد گھومتی ہیں ۔ وہ ویسا بنتا ہے جیسا وہ خود بننا چاہتا ہے نہ کہ ویسا جو خدا اور رسول چاہتے ہیں کہ وہ بنے۔ جو لوگ کسی پچھلے پیغمبر کے نام پر کسی دین کو پکڑے ہوئے ہیں ، ان کی مذہبیت یا خدا پرستی اس وقت تک معتبر نہیں جب تک وہ پیغمبر اسلام پر ایمان نہ لائیں۔ پیغمبر اسلام پر ایمان لانا گویا خود اپنے دین ہی کو زیادہ صحیح اور کامل صورت میں اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ آپ کے اوپر ایمان نہ لائیں وہ اپنے اس عمل سے اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ پیغمبر کے نام پر اپنی قومی روایات اور گروہی تعصبات کو اپنا دین بنائے ہوئے ہیں۔ جو لوگ قومی مذہب کے پرستار ہوں وہ آپ کے لائے ہوئے خدائی مذہب کو نہ پائیں گے۔ وہ اپنے تعصباتی پردہ کی وجہ سے اس سچائی کو نہ دیکھ سکیں گے جو خدا نے اپنے آخری پیغمبر کے ذریعہ ان کے لئے کھولی ہے۔ البتہ جو لوگ فی الواقع خدا اور پیغمبر کے ماننے والے ہوں جن کو پیغمبر اسلام کا دین خود اپنی ہی چیز معلوم ہوگا۔ وہ اس کو اس طرح لیں گے جس طرح کوئی اپنی کھوئی چیز کو ڈھونڈ کر لے لیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues

Printed page