Al-Risala · March 1981 · page 33

موت کی طرف

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۳۳

تذکیر القرآن الانعام ۶ پس کھاؤ اس جانور میں سے جس پر اللہ کا نام لیا جائے، اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہوا۔ اور کیا وجہ ہے کہ تم اس جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے، حالانکہ خدا نے تفصیل سے بیان کر دی ہیں وہ چیزیں جن کو اس نے تم پر حرام کیا سوا اس کے کہ اس کے لئے تم مجبور ہو جاؤ۔ اور یقیناً بہت سے لوگ اپنی خواہشات کی بنا پر گم راہ کرتے ہیں بغیر کسی علم کے۔ بے شک تمہار رب خوب جانتا ہے حد سے نکل جانے والوں کو۔ اور تم گناہ کے ظواہر کو بھی چھوڑ دو اور اس کے باطن کو بھی۔ جو لوگ گناہ کما رہے ہیں ان کو جلد بدلہ مل جائے گا اس کا جو وہ کر رہے تھے۔ اور تم اس جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ یقیناً یہ بے حکمی ہے اور شیاطین القا کر رہے ہیں اپنے ساتھیوں کو تاکہ وہ تم سے جھگڑیں۔ اور اگر تم ان کا کہا مانو گے تو تم بھی مشرک ہو جاؤ گے ۲۱ - ۱۱۸ دنیا میں جو کچھ ہے وہ سب ہمارے لئے ”مال غیر“ ہے۔ کیونکہ سب کا سب خدا کا ہے۔ اس کو اپنے لئے جائز کرنے کی واحد صورت یہ ہے کہ اس کو خدا کے بتائے ہوئے طریقے سے حاصل کیا جائے اور اس کو خدا کے بتائے ہوئے طریقے سے استعمال کیا جائے۔ یہی معاملہ جانوروں کا بھی ہے۔

جانور ہمارے لئے قیمتی خوراک ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان کو خوراک بنانے کا حق ہم کو کیسے ملا۔ جانور کو خدا بناتا ہے اور وہی اس کو پرورش کرکے تیار کرتا ہے۔ پھر ہمارے لئے کیسے جائز ہو کہ ہم اس کو اپنی خوراک بنائیں ۔ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا اسی سوال کا جواب ہے۔ اللہ کا نام لینا کوئی لفظی رسم نہیں ہے۔ یہ دراصل جانور کے اوپر خدا کی مالکانہ حیثیت کو تسلیم کرنا اور اس کے عطیہ پر خدا کا شکر ادا کرنا ہے۔ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا اسی اعتراف و تشکر کی ایک علامت ہے اور یہی اعتراف و تشکر وہ ”قیمت“ ہے جس کو ادا کرنے سے مالک کے نزدیک اس کا ایک جانور ہمارے لئے حلال ہو جاتا ہے۔ تاہم جس کو اتفاقی مجبوری پیش آجائے اس کو اس پابندی سے آزاد کر دیا گیا ہے۔ جب آدمی حرام و حلال اور جائز و ناجائز میں خدا کا حکم چھوڑتا ہے تو اس کے بعد تو ہمات اس کی جگہ لے لیتے ہیں۔ یہ لوگ تو ہماتی خیالات کی بنا پر اشیاء کے بارے میں طرح طرح کی رائیں قائم کر لیتے ہیں۔ ان تو ہمات کے پیچھے کچھ خود ساختہ فلسفے ہوتے ہیں اور ان کی بنیاد پر ان کے کچھ ظاہر قائم ہوتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کے فرماں بردار بننا چاہیں ان کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان تو ہمات کو فکری اور عملی دونوں اعتبار سے مکمل طور پر چھوڑ دیں۔ کھانے پینے اور دوسرے امور میں ہر قوم کا ایک رواجی دین بن جاتا ہے۔ اس رواجی دین کے بارے میں لوگوں کے جذبات بہت شدید ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اس کے حق میں اسلاف اور بزرگوں کی تصدیقات شامل رہتی ہیں، اس سے ہٹنا بزرگوں کے دین سے ہٹنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اس لئے جب حق کی دعوت اس رواجی دین سے ٹکراتی ہے تو حق کی دعوت کے خلاف طرح طرح کے اعتراضات کئے جاتے ہیں۔ وقت کے بڑے ایسی خوش کن باتیں نکالتے ہیں جن سے وہ اپنے عوام کو مطمئن کر سکیں کہ تمھارا رواجی دین صحیح ہے اور یہ ”نیا دین“ بالکل باطل ہے۔ مگر اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ قیامت میں جب وہ حقیقتوں کو کھولے گا تو ہر آدمی دیکھ لے گا کہ وہ حقیقت کی زمین پر کھڑا تھا یا تو ہمات کی زمین پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues

Printed page