موت کی طرف
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۳۴
تذکیر القرآن الانعام ۶ کبے وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندگی دی اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہے، اس سے نکلنے والا نہیں۔ اس طرح کافروں کی نظر میں ان کے اعمال خوش نما بنا دئے گئے ہیں۔ اور اس طرح ہر بستی میں ہم نے گنہگاروں کے سردار رکھ دئے ہیں کہ وہ وہاں حیلے کریں۔ حالاں کہ وہ جو حیلہ کرتے ہیں اپنے ہی خلاف کرتے ہیں مگر وہ اس کو نہیں سمجھتے۔ اور جب ان کے پاس کوئی نشان آتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ مانیں گے جب تک ہم کو بھی وہی نہ دیا جائے جو خدا کے پیغمبروں کو دیا گیا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کس کو بخشے۔ جو لوگ مجرم ہیں ضرور ان کو اللہ کے یہاں ذلت نصیب ہوگی اور سخت عذاب بھی، اس وجہ سے کہ وہ مکر کرتے تھے (۱۲۲ - ۱۲۴)
اللہ کی نظر میں وہ شخص زندہ ہے جس کے سامنے ہدایت کی روشنی آئی اور اس نے اس کو اپنے راستہ کی روشنی بنالیا۔ اس کے مقابلہ میں مردہ وہ ہے جو ہدایت کی روشنی سے محروم ہو کر باطل کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہو۔ مردہ آدمی اوہام و تعصبات کے جال میں اتنا پھنسا ہوا ہوتا ہے کہ سیدھے اور سچے حقائق اس کے ذہن کی گرفت میں نہیں آتے۔ وہ اشیاء کی ماہیت سے آشنابے خبر ہوتا ہے کہ لفظی بحث اور حقیقی کلام میں فرق نہیں کر پا تا۔ وہ اپنی بڑائی کے تصور میں اتنا ڈوبا ہوا ہوتا ہے کہ کسی دوسرے کی طرف سے آئی ہوئی سچائی کا اعتراف کرنا اس کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے ذہن پر رواجی خیالات کا اتنا غلبہ ہوتا ہے کہ ان سے ہٹ کر کسی اور معیار پر وہ چیزوں کو جانچ نہیں پاتا۔ اپنی ان کمزوریوں کی بنا پر وہ اندھیرے میں بھٹکتا رہتا ہے، بظاہر زندہ ہوتے ہوئے بھی وہ ایک مردہ انسان بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص ہدایت کے لئے اپنا سینہ کھول دیتا ہے وہ قسم کی نفسیاتی گرہوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ سچائی کو پہچاننے میں اسے ذرا بھی دیر نہیں لگتی۔ الفاظ کے پردے کبھی اس کے لئے حقیقت کا چہرہ دیکھنے میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ ذوق اور عادت کے مسائل اس کی زندگی میں کبھی یہ مقام حاصل نہیں کرتے کہ اس کے اور حق کے درمیان حائل ہو جائیں۔ سچائی اس کے لئے ایک ایسی روشن حقیقت بن جاتی ہے جس کو دیکھنے میں اس کی نظر کبھی نہ چو کے اور جس کو پانے کے لئے وہ کبھی سست ثابت نہ ہو۔ وہ خود بھی حق کی روشنی میں چلتا ہے اور دوسروں کو بھی اس میں چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ لوگ جو خود ساختہ چیزوں کو خدا کا مذہب بنا کر عوام کا مرجع بنے ہوئے ہوتے ہیں وہ ہر ایسی آواز کے دشمن بن جاتے ہیں جو لوگوں کو سچے دین کی طرف پکارے۔ ایسی ہر آواز ان کو اپنے خلاف یا اعتمادی کی تحریک دکھائی دیتی ہے۔ یہ وقت کے بڑے لوگ حق کی دعوت میں ایسے شوشے نکالتے ہیں جس سے وہ عوام کو اس سے متاثر ہونے سے روک سکیں ۔ وہ حق کے دلائل کو غلط رخ دے کر عوام کو شبہات میں مبتلا کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ بے بنیاد باتوں کے ذریعہ داعی کی ذات کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اس قسم کی کوششیں صرف ان کے جرم کو بڑھاتی ہیں، وہ داعی اور دعوت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ حق پرست وہ ہے جو حق کو اس وقت دیکھ لے جب کہ اس کے ساتھ دنیوی عظمتیں شامل نہ ہوئی ہوں۔ دنیوی عظمت والے حق کو ماننا در اصل دنیوی عظمتوں کو ماننا ہے نہ کہ خدا کی طرف سے آئے۔ ہوئے حق کو۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues