موت کی طرف
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۴۱
تذکیر القرآن الانعام ۶ اللہ نے آٹھ جوڑے پیدا کئے۔ دو بھیڑ کی قسم سے اور دو بکری کی قسم سے۔ پوچھو کہ دونوں تراللہ نے حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ۔ یا بچے جو بھیڑوں اور بکریوں کے پیٹ میں ہوں۔ مجھے دلیل کے ساتھ بتاؤ اگر تم سچے ہو۔ اور اسی طرح دو اونٹ کی قسم سے اور دو گائے کی قسم سے۔ پوچھو کہ دونوں نراللہ نے حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ۔ یا وہ بچے جو اونٹنی اور گائے کے پیٹ میں ہوں۔ کیا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے تم کو اس کا حکم دیا تھا۔ پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے تاکہ وہ لوگوں کو بہکا دے بغیر علم کے۔ بے شک اللہ ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا۔ کہو، مجھ پر جو وحی آئی ہے اس میں تو میں کوئی چیز نہیں پاتا جو حرام ہوکسی کھانے والے پر سوا اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون ہو یا سور کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے۔ یا نا جائز ذبیحہ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔ لیکن جو شخص بھوک سے بے اختیار ہو جائے، نہ نافرمانی کرے اور نہ زیادتی کرے، تو تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔ ۱۴۵-۱۴۳ عربوں میں گوشت اور دودھ وغیرہ کے لئے جو جانور پالے جاتے تھے ان میں سے چار زیادہ معروف تھے۔ بھیڑ بکری اور اونٹ گائے۔ ان کے بارے میں انھوں نے طرح طرح کے تحریمی قاعدے بنائے تھے۔ مگر ان تحریمی قاعدوں کے پیچھے اپنے مشرکانہ رواجوں کے سوا کوئی دلیل ان کے پاس نہ تھی۔ بھیڑ اور بکری اور اونٹ اور گائے، خواہ نر ہوں یا مادہ، عقلی طور پر کوئی سبب حرمت ان کے اندر موجود نہیں ہے، ان کا تمام کا تمام گوشت انسان کی بہترین غذا ہے۔ ان میں کوئی ایسی ناپاک عادت بھی نہیں جو ان کے بارے میں انسانی طبیعت میں کراہت پیدا کرتی ہو۔ آسمان سے اترے ہوئے علم میں بھی ان کی حرمت کا ذکر نہیں۔
پھر کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ان حیوانات کے بارے میں لوگوں کے اندر طرح طرح کے تحریمی قاعدے بن جاتے ہیں، اس کی وجہ شیطانی ترغیبات ہیں۔ انسان کے اندر فطری طور پر خدا کا شعور اور حرام و حلال کا احساس موجود ہے، وہ آدمی اپنے اندرونی تقاضے کے تحت کسی ہستی کو اپنا خدا بنانا چاہتا ہے اور چیزوں میں جائز نا جائز کا فرق کرنا چاہتا ہے۔ شیطان اس حقیقت کو خوب جانتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ انسان کو اگر سادہ حالات میں عمل کرنے کا موقع ملا تو وہ فطرت کے صحیح راستہ کو پکڑ لے گا۔ اس لئے وہ فطرت انسانی کو کند کرنے کے لئے طرح طرح کے غلط رواج قائم کرتا ہے۔ وہ خدا کے نام پر کچھ فرضی خدا گھڑتا ہے۔ وہ حرام و حلال کے نام پر کچھ بے بنیاد محرمات وضع کرتا ہے۔ اس طرح شیطان یہ کوشش کرتا ہے کہ آدمی انھیں فرضی چیزوں میں الجھ کر رہ جائے اور اصلی سچائی تک نہ پہنچے۔ وہ سیدھے راستہ سے بھٹک چکا ہو۔ مگر بظاہر اپنے کو چلتا ہوا دیکھ کر یہ سمجھے کہ میں "راستہ پر ہوں ۔ حالاں کہ وہ ایک ٹیڑھی لکیر ہو نہ کہ سیدھا سچا راستہ۔
جو لوگ اس طرح شیطانی بہکاوے کا شکار ہوں وہ خدا کی نظر میں ظالم ہیں۔ ان کو خدا نے سمجھ دی تھی جس سے وہ حق و باطل میں تمیز کر سکتے تھے۔ مگر ان کے تعصبات ان کے لئے پردہ بن گئے۔ سمجھنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود سمجھنے سے دور رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues