Al-Risala · March 1981 · page 40

موت کی طرف

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۴۰

اور وہ اللہ ہی ہے جس نے باغ پیدا کئے، کچھ ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں اور کچھ نہیں چڑھائے جاتے۔ اور کھجور کے درخت اور کھیتی کہ اس کے کھانے کی چیزیں مختلف ہوتی ہیں اور زیتون اور انار باہم ملتے جلتے بھی اور ایک دوسرے سے مختلف بھی۔ کھاؤ ان کی پیداوار جب کہ پھلیں اور اللہ کا حق ادا کرو اس کے کاٹنے کے دن۔ اور اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور اس نے مویشیوں میں بوجھ اٹھانے والے پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے بھی۔ کھاؤ ان چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں دی ہیں۔ اور شیطان کی پیروی نہ کرو، وہ تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے ۱۴ - ۱۴۱۔

خدا نے انسان کے لئے طرح طرح کی غذائیں پیدا کی ہیں۔ کچھ چیزیں وہ ہیں جو زمین میں پھیلتی ہیں۔ مثلاً خربوزے، سبزیاں وغیرہ۔ کچھ چیزیں وہ ہیں جو ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں۔ مثلاً انگور وغیرہ۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اپنے تنہ پر کھڑی رہتی ہیں۔ مثلاً کھجور، آم وغیرہ۔ اسی طرح آدمی کی ضرورت کے لئے مختلف قسم کے چھوٹے بڑے جانور پیدا کئے۔ مثلاً اونٹ گھوڑے اور بھیڑ بکریاں۔

آدمی ایک علیحدہ مخلوق ہے اور بقیہ چیزیں علیحدہ مخلوق۔ دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ پیدا ہوئے ہیں۔ مگر انسان دیکھتا ہے کہ دونوں میں زبردست ہم آہنگی ہے۔ آدمی کے جسم کو اگر غذائیت درکار ہے تو اس کے باہر ہرے بھرے درختوں میں حیرت انگیز قسم کے غذائی پیکٹ لٹک رہے ہیں۔ اگر اس کی زبان میں مزہ کا احساس پایا جاتا ہے تو پھلوں کے اندر اس کی تسکین کا اعلیٰ سامان موجود ہے۔ اگر اس کی آنکھوں میں حسن نظر کا ذوق ہے تو قدرت کا پورا کارخانہ حسن اور دل کشی کا مرقع بنا ہوا ہے۔ اگر اس کو سواری اور بار برداری کے ذرائع درکار ہیں تو یہاں ایسے جانور موجود ہیں جو اس کے لئے نقل وحمل کا ذریعہ بھی بنیں اور اسی کے ساتھ اس کے لئے قیمتی غذا بھی فراہم کریں۔ اس طرح کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ توحید کا اعلان بن گئی ہے۔ کیونکہ کائنات کے مختلف مظاہر میں یہ وحدت اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس کا خالق و مالک ایک ہو۔

آدمی جب دیکھتا ہے کہ اتنا عظیم کائناتی اہتمام اس کے کسی ذاتی استحقاق کے بغیر ہو رہا ہے تو اس ایک طرفہ انعام پر اس کا دل شکر کے جذبہ سے بھر جاتا ہے۔ پھر اسی کے ساتھ یہ سارا معاملہ آدمی کے لئے تقویٰ کی غذا بن جاتا ہے۔ انسانی فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ ہر عنایت (Privilege) کے ساتھ ذمہ داری (Responsibility) ہو۔ یہ چیز آدمی کو جزا و سزا کی یاد دلاتی ہے اور اس کو آمادہ کرتی ہے کہ وہ دنیا میں اس احساس کے ساتھ رہے کہ ایک دن اس کو خدا کے سامنے حساب کے لئے کھڑا ہونا ہے۔ یہ احساسات اگر حقیقی طور پر آدمی کے اندر جاگ اٹھیں تو لازمی طور پر اس کے اندر دو باتیں پیدا ہوں گی ۔ ایک یہ کہ اس کو جو کچھ ملے گا اس میں وہ اپنے مالک کا حق بھی سمجھے گا۔ دوسرے یہ کہ وہ صرف واقعی ضرورت کے بقدر خرچ کرے گا نہ کہ فضول اور بے موقع خرچ کرنے لگے۔ مگر شیطان یہ کرتا ہے کہ اصل رخ سے آدمی کا ذہن موڑ کر اس کو دوسری غیر متعلق باتوں میں الجھا دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues

Printed page