موت کی طرف
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۴۳
جنھوں نے شرک کیا وہ کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو تم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کر لیتے۔ اسی طرح جھٹلایا ان لوگوں نے بھی جوان سے قبل ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ انھوں نے ہمارا عذاب چکھا ۔ کہو کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جس کو تم ہمارے سامنے پیش کرو۔ تم تو صرف گمان کی پیروی کر رہے ہو اور محض اٹکل سے کام لیتے ہو۔ کہو کہ پوری حجت تو اللہ کی ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ہم سب کو ہدایت دے دیتا۔ کہو کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو اس پر گواہی دیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے۔ اگر وہ جھوٹی گواہی دے بھی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا، اور تم ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر ٹھہراتے ہیں ۵۱ - ۱۴۸ حق کی بے آمیز دعوت ہمیشہ اپنے ماحول میں اجنبی دعوت ہوتی ہے۔ ایک طرف مروجہ دین ہوتا ہے جس کو تمام اجتماعی اداروں میں غلبہ کا مقام حاصل ہوتا ہے۔ صدیوں کی روایات اس کو باوزن بنانے کے لئے اس کی پشت پر موجود ہوتی ہیں۔ دوسری طرف حق کی دعوت ہوتی ہے جو ان تمام اضافی خصوصیات سے خالی ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں لوگوں کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ جس دین کو اتنا درجہ اور اتنی مقبولیت حاصل ہو وہ دین خدا کی پسند کے مطابق نہ ہوگا۔ لوگ فرض کر لیتے ہیں کہ مروجہ دین کا اتنا پھیلاؤ اسی لئے ممکن ہو سکا کہ خدا کی مرضی اس کے شامل حال تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کو یہ پھیلاؤ کبھی حاصل نہ ہوتا۔ وہ کہتے ہیں کہ جس دین کو خدا کی دنیا میں ہر طرف بلند مقام حاصل ہو وہ خدا کا پسندیوہ دین ہو گا یا وہ دین جس کو خدا کی دنیا میں کہیں کوئی مقام حاصل نہیں۔ مگر حق و باطل کا فیصلہ حقیقی دلائل پر ہوتا ہے نہ کہ اس قسم کے قیاسات پر۔ خدا نے اس دنیا کو امتحان گاہ بنایا ہے۔ یہاں آدمی کو یہ موقع ہے کہ وہ جس چیز کو چاہے اختیار کرے اور جس چیز کو چاہے اختیار نہ کرے۔ یہ معاملہ تمام تر آدمی کے اپنے اوپر منحصر ہے۔ ایسی حالت میں کسی چیز کا رواج عام اس کے برحق ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ کوئی چیز برحق ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ دلائل کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ رواجی عمل کی بنیاد پر۔ دنیا کو اللہ نے امتحان گاہ بنایا سانسان پر اپنی مرضی جبراً مسلط کرنے کے بجائے یہ طریقہ اختیار کیا کہ انسان کو صحیح اور غلط کا علم دیا اور یہ معاملہ انسان کے اوپر چھوڑ دیا کہ وہ صحیح کو لیتا ہے یا غلط کو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں دلیل (حجت) خدا کی نمائندہ ہے۔ آدمی جب ایک سچی دلیل کے آگے جھکتا ہے تو وہ خدا کے آگے جھکتا ہے۔ اور جب وہ ایک سچی دلیل کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو وہ خدا کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔ جب آدمی دلیل کے آگے نہیں جھکتا تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی خواہش سے اوپر اٹھ نہیں پاتا۔ وہ باطل کو حق کہنے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ اپنے عمل کو جائز ثابت کر سکے۔ اس کی ڈھٹائی اس کو یہاں تک لے جاتی ہے کہ وہ خدا کی نشانیوں کو نظر انداز کر دے۔ وہ اس بات سے بے پروا ہو جاتا ہے کہ خدا اس کو بالاخر پکڑنے والا ہے۔ وہ دوسری دوسری چیزوں کو دہ اہمیت دے دیتا ہے جو اہمیت صرف خدا کو دینا چاہئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues