موت کی طرف
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۶
تذر القرآن الانعام ۶ کہو، آؤ میں سناؤں وہ چیزیں جو تمھارے رب نے تم پر حرام کی ہیں۔ یہ کہ تم اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو، اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو۔ ہم تم کو بھی روزی دیتے ہیں اور ان کو بھی۔ اور بے حیائی کے کوم کے پاس نہ جاؤ خواہ وہ ظاہر ہو یا پوشیدہ۔ اور جس جان کو اللہ نے حرام ٹھہرایا اس کو نہ مارو مگر حق پر۔ یہ باتیں ہیں جن کی خدا نے تمھیں ہدایت فرمائی ہے تاکہ تم عقل سے کام لو ۱۵۲ خدائی پابندی کے نام پر لوگ طرح طرح کی رسمی اور ظاہری پابندیاں بنا لیتے ہیں اور ان کا خصوصی اہتمام کر کے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ انھوں نے خدائی پابندیوں کا حق ادا کر دیا۔ مگر خدا انسان سے جن پابندیوں کا اہتمام چاہتا ہے وہ حقیقی پابندیاں ہیں نہ کہ کسی قسم کے رسمی مظاہر۔
سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ آدمی ایک خدا کو اپنا خدا بنائے۔ اس کے سوا کسی کی بڑائی کا غلبہ اس کے ذہن پر نہ ہو۔ اس کے سوا کسی کو وہ قابل بھروسہ نہ سمجھتا ہو۔ اس کے سوا کسی سے وہ امیدیں قائم نہ کرے۔ اس کے سوا کسی سے وہ ڈرے اور نہ اس کے سوا کسی کی شدید محبت میں مبتلا ہو۔
والدین اکثر حالات میں کمزور اور محتاج ہوتے ہیں اور اولاد طاقت ور۔ ان سے حسن سلوک کا محرک مفاد نہیں ہوتا بلکہ صرف حق شناسی ہوتا ہے۔ اس طرح والدین کے حقوق ادا کرنے کا معاملہ آدمی کے لیے اس بات کا سب سے پہلا امتحان بن جاتا ہے کہ اس نے خدا کے دین کو قول کی سطح پر اختیار کیا ہے یا عمل کی سطح پر۔ اگر وہ والدین کی کمزوری کے بجائے ان کے حق کا اہمیت دے، اگر اپنے دوستوں اور اپنے بیوی بچوں کی محبت اس کو والدین سے دور نہ کرے تو گویا اس نے اس بات کا پہلا ثبوت دے دیا کہ اس کا اخلاق اصول پسندی اور حق شناسی کے تابع ہوگا نہ کہ مفاد اور مصلحت کے تابع۔
انسان اپنے حرص اور ظلم کی وجہ سے خدا کے پیدا کیے ہوئے رزق کو تمام بندوں تک منصفانہ طور پر پہنچنے نہیں دیتا۔ اور جب اس کی وجہ سے قلت کے مصنوعی مسائل پیدا ہوتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ کھانے والوں کو قتل کر دو یا پیدا ہونے والوں کو پیدا نہ ہونے دو۔ اس قسم کی باتیں خدا کے نظام رزق پر بہتان کے ہم معنی ہیں بہت سی برائیاں ایسی ہیں، جو اپنی ہیئت میں اتنی فحش ہوتی ہیں کہ ان کی برائی کو جاننے کے لیے کسی بڑے علم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انسانی فطرت اور اس کا ضمیر ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ یہ کام انسان کے کرنے کے قابل نہیں۔ ایسی حالت میں جو شخص کسی فحاشی یا بے حیائی کے کام میں مبتلا ہو وہ گویا ثابت کر رہا ہے کہ وہ اس ابتدائی درجہ انسانیت سے بھی محروم ہے جہاں کسی انسان کے انسان ہونے کا آغاز ہوتا ہے ہر انسان کی جان محترم ہے۔ کسی انسان کو ہلاک کرنا کسی کے لیے جائز نہیں جب تک خالق کے قانون کے مطابق وہ کوئی ایسا جرم نہ کرے جس میں اس کی جان لینا مخصوص شرائط کے ساتھ مباح ہو گیا ہو۔ یہ باتیں اتنی واضح ہیں کہ عقل سے کام لینے والا ان کی صداقت کو جاننے سے محروم نہیں رہ سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues