Al-Risala · April 1981 · page 5

سچائی کا زور

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۵

تھی کہ دلیل کے میدان میں وہ اپنے کو بالکل بے بس پارہے ہیں، عبداللہ بن مسعود سچائی کے زور سے زور آور تھے، اور یقیناً سچائی کا زور سب سے بڑا زور ہوتا ہے۔

دنیا کی رزم گاہ میں بہادر بننے کا راز یہ نہیں ہے کہ آدمی پر مشکلات نہ گزریں۔ مشکلات تو اس دنیا میں ہر ایک کے لئے آتی ہیں۔ بہادری کا اصل راز یہ ہے کہ آدمی کے پاس کوئی ایسا یقین ہو جو اپنے مقصد کے مقابلہ میں مشکلات کو اس کے لئے حقیر بنادے۔ دکھوں کی اس دنیا میں مشکلات کو وہی شخص جھیلتا ہے جس کو مشکلات سے بڑی کوئی چیز مل گئی ہو۔

مومن کو یہ چیز کمال درجہ میں حاصل ہوتی ہے۔ اس کے پاس ایک ایسا حق ہوتا ہے جس کی عظمت اور صداقت پر اسے ادنیٰ شبہ نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس راہ میں ہر قربانی آخرت میں اس کی کامیابیوں میں اضافہ کرنے کے ہم معنی ہوگی۔ یہ یقین اس کے لئے حق کے اعلان کو ایک ایسی لذت بنا دیتا ہے جس کا سرور کبھی ختم نہ ہو۔ مخالفین کی جارحیت صرف اس کے اس یقین میں اضافہ کرتی ہے کہ وہ سراسر حق پر ہے اور اس کے مخالفین سراسر باطل پر۔ جارحیت دراصل سچائی کے میدان میں اپنی شکست کا اعلان ہے ۔ مخالفین کی جارحیت ایمان واسلام کے داعی کے لئے اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ اس کے مخالفین دلیل کے میدان میں اپنی بازی ہار چکے ہیں۔ کیوں کہ جس کے پاس دلیل کی طاقت ہو وہ کبھی جارحیت کی طاقت استعمال نہیں کرتا۔

سچائی ایک اعلیٰ ترین ذہنی یافت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سچائی کی طاقت کا خزانہ آدمی کے اپنے اندر ہوتا ہے۔ جب کہ دوسری تمام طاقتیں خارجی طاقتیں ہیں، ان کا خزانہ آدمی کے اپنے وجود کے باہر ہوتا ہے۔ دوسری طاقتوں کا ذخیرہ محدود ہوتا ہے۔ وہ کسی نہ کسی وقت ختم ہو جاتا ہے۔ یہ چیزیں نازک حالات میں خود اپنے بچاؤ کی فکر میں لگ جاتی ہیں، اس بنا پر وہ نازک مواقع پر آدمی کا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں۔ مگر سچائی کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ سچائی وہ اتھاہ طاقت ہے جس کا ذخیرہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ سچائی جب ایک بار کسی کو مل جائے تو وہ اس کی جان کے ساتھ ساتھ باقی رہتی ہے، وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتی۔ سچائی کی طاقت آخر وقت تک آدمی کا سہارا بنی رہتی ہے۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ بظاہر اس کے ساتھ کوئی طاقت موجود نہیں ہوتی۔

مومن کو جو سچائی ملتی ہے وہ خود خدا ہوتا ہے۔ مومن خدا کو سب سے بڑی حقیقت کے طور پر پالیتا ہے۔ پھر جو سب سے بڑی ہستی کو پالے وہ اس کے بعد کسی چھوٹی چیز سے کیوں ڈرے گا۔ اس کے بعد کوئی چیز پانے کے لئے باقی ہی نہیں رہتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues

Printed page