Al-Risala · April 1981 · page 6

سچائی کا زور

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۶

حقیقت کی تلاش

گلیلیو (۱۶۴۲-۱۵۶۴) اپنی سادہ دوربین سے چاند کا صرف سامنے کا رخ دیکھ سکتا تھا ۔ آج کا انسان خلائی جہاز میں لگے ہوئے دوربین کیمروں کی مدد سے چاند کا پچھلا رخ بھی پوری طرح دیکھ رہا ہے۔ یہ ایک سادہ سی مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کل اور آج میں علمی اعتبار سے کتنا زیادہ فرق ہو چکا ہے۔ مگر ان جدید معلومات تک پہنچنے کی قیمت بہت مہنگی ہے۔ ۱۰ اکتوبر ۱۹۸۰ کو نیو میکسیکو میں دنیا کی سب سے بڑی دوربین نصب کی گئی۔ اس کی قیمت ۸۷ ملین ڈالر تھی۔ امریکا کا ایک خلائی جہاز (وائیجر) جو دسمبر ۱۹۸۰ میں زحل پر پہنچا اس کی لاگت ۴۳ ملین ڈالر تھی۔ یورپ میں پارٹیکل فزکس کی بین الاقوامی لیبارٹری (Cern) ۱۹۸۱ میں مکمل ہوئی ہے، اس کا مقصد اینٹی میٹر کو توڑ کر میٹر میں تبدیل کرنا ہے، اس لیبارٹری کی لاگت ۱۲۰ ملین ڈالر ہے۔ یہ ادارہ ایک اور زیادہ بڑی تحقیقی مشین تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جس کی لاگت ۵۰ ملین ڈالر ہوگی۔ پروٹان کی تحقیق کے کے لئے امریکہ میں ایک مشین بنائی گئی ہے جس کی لاگت ۷۵ ملین ڈالر ہے، وغیرہ پارٹیکل فزکس (ذراتی طبیعیات) میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ۱۹۲۷ میں ہونے والی فزکس کانفرنس میں ۳۲ سائنس داں شریک ہوئے تھے جب کہ ۱۹۸۰ میں ہونے والی فزکس کانفرنس میں شریک ہونے والے سائنس دانوں کی تعداد ۸۰۰ تھی۔ امریکن فزیکل سوسائٹی کے ممبروں کی تعداد ۱۹۲۰ میں ۳۰۰ تھی، ۱۹۸۰ میں اس سوسائٹی کے ممبروں کی تعداد ۳۰۰۰۰ تک پہنچ چکی ہے۔

ان جدید تحقیقاتی کوششوں کا تعلق فلکیات (اسٹرانومی) اور پارٹیکل فزکس (ذراتی طبیعیات) سے ہے۔ ان علوم میں تحقیقات کے نتائج بہت دیر میں نکلتے ہیں۔ تقریباً ۵۰ سال بعد یا اس سے بھی زیادہ ۔ اگر اس کا لحاظ کیا جائے کہ ان تحقیقات میں لگی ہوئی رقم (جس پر کوئی سود نہیں ملتا) کی قیمت ہر سال کم ہوتی رہتی ہے تو پچاس سال بعد ایک سو ڈالر کی قیمت صرف ایک ڈالر کے بقدر رہ جائے گی۔ بظاہر ایک بے فائدہ مد میں اتنی کثیر رقم خرچ کرنے کی وجہ سے بہت سے لوگ ایسے منصوبوں پر اعتراض کر رہے ہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے امریکی پروفیسر راجر پنروز (Roger Penrose) نے کہا ہے:

Do economists not share with us the thrill that accompanies each new piece of understanding? Do they not care to know where we have come from, how we are constituted, or why we are here? Do they not have a drive to understand, quite independent of economic gain? Do they not appreciate the beauty in ideas? -- A civilisation that stopped inquiring about the universe might stop inquiring about other things as well. A lot else might then die besides particle physics. SUNDAY Weekly (Calcutta) November 30, 1980 کیا اقتصادیات کے ماہرین اس وجدانگیز مسرت میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہیں جو علم کے ہر نئے اضافے سے حاصل

‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues

Printed page