Al-Risala · April 1981 · page 7

سچائی کا زور

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۷

ہوتی ہے۔ کیا ان کو یہ جاننے کا شوق نہیں ہے کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ہماری پیدائش کیسے ہوئی ہے یا یہ کہ اس زمین پر ہم کیوں ہیں۔ کیا اقتصادی فائدہ سے ہٹ کر ان باتوں کو جاننے کا جذبہ ان کے اندر پیدا نہیں ہوتا۔ کیا وہ نظریات میں حسن کی قیمت کو نہیں سمجھتے۔ کوئی تہذیب جو کائنات کے بارے میں تحقیق سے رک جائے وہ دوسری چیزوں کے بارے میں تحقیق کو بھی روک دے گی۔ اس کے بعد پارٹیکل فزکس کے علاوہ دوسری بہت سی چیزیں بھی موت کا شکار ہو کر رہ جائیں گی۔

اس اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی کی حقیقت جاننے کا مسئلہ کس قدر ضروری ہے۔ وہ انسان جو خدا کی بنیاد پر کائنات کی تشریح نہیں کرنا چاہتا وہ بھی انتہائی بے تاب ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز پالے جس کی بنیاد پر وہ اپنی اور کائنات کی تشریح کرسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ نظر آنے والی کائنات اور اس کے اندر انسان جیسی ایک مخلوق کا موجود ہونا اس قدر حیران کن ہے کہ انسان اس کی ماہیت کے بارے میں سوچے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کوئی بھی دوسری چیز اس کو اس سوال سے بے نیاز کرنے والی ثابت نہیں ہو سکتی۔ حتیٰ کہ بڑی بڑی مادی ترقیاں بھی۔ انسان دیکھتا ہے کہ وہ ایک لامحدود کائنات میں ہے۔ اس کائنات میں تقریباً ایک کھرب کہکشائیں ہیں۔ ہر کہکشاں میں لگ بھگ ایک کھرب بہت بڑے بڑے ستارے ہیں۔ اور ہر ستارہ دوسرے ستارے سے اتنا زیادہ فاصلہ پر ہے جیسے بحرِ الکاہل کے لق و دق سمندر میں چند کشتیاں ایک دوسرے سے بہت دور دور تیر رہی ہوں۔ عظیم کائنات میں پھیلے ہوئے ستاروں کی یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر ہر ستارہ کا کوئی ایک لفظی نام رکھا جائے اور کوئی اِن ناموں کو بولنا شروع کرے تو صرف تمام ناموں کو دہرانے کے لئے ۳۰۰ کھرب سال کی مدت درکار ہوگی (پلین ٹرتھ جنوری ۱۹۸۱ء)

اس ناقابلِ قیاس حد تک عظیم کائنات میں انسان سب سے زیادہ حقیر مخلوق ہے۔ وہ کائناتی نقشہ میں ان چھوٹے جزیروں سے بھی کم ہے جو بہت چھوٹے ہونے کی وجہ سے عام طور پر دنیا کے نقشوں میں دکھائی نہیں دیتے ۔ یہ انسان اپنے تمام چھوٹے پن کے باوجود کائنات کے فاصلوں کو ناپ رہا ہے۔ وہ طبیعیاتی ذروں سے لے کر کہکشانی نظاموں تک کی تحقیق کر رہا ہے۔ وہ ایک ایسا ذہن رکھتا ہے جو ماضی اور مستقبل کا تصور کر سکے۔ یہ سب کیوں ہو رہا ہے اور کیسے ہو رہا ہے۔ اور بالآخر اس عجیب و غریب ڈرامے کا کیا انجام ہونے والا ہے۔ یہ سوالات ہر سوچنے والے انسان کے اوپر منڈلا رہے ہیں۔ وہ ان کی حقیقت تک پہنچنا چاہتا ہے۔ مگر انسان کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ ان سوالات کا جواب دور بینی مشاہدات اور لیبوریٹری کے تجربات میں ڈھونڈ رہا ہے۔ حالاں کہ ان سوالات کا جواب پیغمبر کے الہام کے سوا کہیں اور موجود نہیں۔

جس کائنات میں اتنی زیادہ دنیا ئیں ہوں کہ صرف ان کا نام لینے کے لئے تین سو کھرب سال سے زیادہ مدت درکار ہو، اس کی حقیقت کو وہ انسان کیوں کر دریافت کر سکتا ہے جو پچاس سال یا سو سال زندگی گزار کر مر جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خالق ہی اس راز کو کھول سکتا ہے اور اسی نے پیغمبر کے ذریعہ اس کو کھولا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues

Printed page