پہلے مطالعہ کیجئے
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۱۵
پہلے مطالعہ کیجئے
مولانا اقبال احمد سہیل ۱۸۸۴ء) میرے چچا زاد بھائی تھے۔ غیر معمولی ذہین ہونے کے علاوہ انھوں نے اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی۔ اردو، فارسی، عربی اور انگریزی میں مکمل قدرت رکھتے تھے۔ ان کی قدرت کلام کی صرف ایک مثال یہاں نقل کروں گا۔ ۱۹۵۰ء کے لگ بھگ زمانہ کی بات ہے میرے ساتھیوں کو کسی جلسہ میں اسلامی کتابوں کا اسٹال لگانا تھا اور اس موقع پر وہاں لٹکانے کے لئے ایک انگریزی پوسٹر کی ضرورت تھی۔ اس پوسٹر کا اردو مضمون یہ تھا : اسلامی تحریک کا انقلاب انگریز ی پر پڑھیے اور نئی دنیا کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کیجئے یہ مضمون مختلف انگریزی اساتذہ کو ترجمہ کے لئے دیا گیا۔ مگر کسی کے ترجمہ میں اردو فقرہ کا زور نہ آسکا۔ آخر میں نے مولانا اقبال احمد سہیل سے کہا کہ آپ اس کا ترجمہ کر دیں۔ انھوں نے جو ترجمہ کیا وہ فورا پسند کر لیا گیا اور اس کا پوسٹر بنا دیا گیا۔ ان کے ترجمہ کے الفاظ یہ تھے :
Go through the revolutionizing literature of the Islamic movement and play your part in building of a new world تاہم مولانا موصوف کی تمام بہترین صلاحیتیں شاعری اور وکالت کی نذر ہو کر رہ گئیں۔ ایک بار میں نے مولانا سے کہا کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں شاعری میں کہتے ہیں۔ یہ نثر کا زمانہ ہے۔ اگر آپ نثر میں کوئی کتاب تیار کر دیں تو زیادہ بہتر ہو۔ انھوں نے جواب دیا تم صحیح کہتے ہو، مگر نثر میں کوئی جان دار چیز لکھنے کے لئے مطالعہ کی ضرورت ہے۔ مطالعہ کے بغیر اگر میں نثر میں کتاب لکھوں تو ایک پارہ ادب تو ضرور تیار ہو جائے گا، مگر کوئی ایسی چیز نہیں بن سکتی جس کی علمی قدر و قیمت ہو۔
مولانا اقبال احمد سہیل نے مطالعہ کی کمی کا احساس کرتے ہوئے نثر میں لکھنے کی کوشش نہیں کی۔ مگر موجودہ زمانہ میں بے شمار لوگ مطالعہ کی کمی کے باوجود پورے جوش و خروش کے ساتھ کتابوں کے مصنف بننے کی کوشش میں مشغول ہیں۔ انھیں خبر نہیں کہ علم کے بغیر جو چیز لکھی جائے وہ صرف اپنی بے علمی کا اشتہار ہوتا ہے اور اگر آدمی کے پاس علم ہو لیکن مطالعہ نہ ہو تب بھی کتاب، لکھنا کچھ کارآمد نہیں۔ کیونکہ ایسا آدمی صرف ایک پارہ ادب " تیار کرتا ہے نہ کہ حقیقتاً علمی قدر و قیمت رکھنے والی کوئی چیز۔
مولانا سید سلیمان ندوی (۱۹۵۲ء-۱۸۸۴ء) کہا کرتے تھے کہ اتنا پڑھو اتنا پڑھو کہ ابلنے لگے، اس کے بعد لکھو۔ یہی بات ہر ایک کے لئے صحیح ہے جو پڑھے بغیر لکھے گا وہ نثر کی زبان میں شاعری کرے گا یا تحریر کے اسلوب میں خطابت۔ ۔ اور دونوں ہی علم کی بارگاہ میں بالکل بے قیمت ہیں
‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues