مجھے آخرت تک جانا ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۲۰
مجھے آخرت تک جانا ہے
مولانا اشرف علی تھانوی ایک بار ٹرین سے سفر کر رہے تھے۔ ان کو اعظم گڑھ جانا تھا۔ ایک ریلوے گارڈ جوان کا معتقد تھا اسٹیشن پر ان سے ملنے کے لئے آیا۔ اتنے میں ایک دیہاتی آدمی بھی آگیا۔ اس نے گنے کا ایک گٹھا تحفہ کے طور پر مولانا کو پیش کیا۔ مولانا نے قبول کر لیا اور اپنے ساتھی سے کہا کہ ان گنوں کا وزن کرا کے ان کو بک کروالو۔ گارڈ نے کہا: بک کروانے کی کیا ضرورت ہے۔ اس ٹرین سے جو گارڈ جا رہا ہے میں اس سے کہہ دیتا ہوں۔ وہ خیال رکھے گا۔ مولانا نے کہا کہ تمھارا گارڈ تو اسی ٹرین تک ساتھ رہے گا اور مجھے آگے جانا ہے ۔ گارڈ نے سمجھا کہ مولانا کو آگے کسی اسٹیشن پر یہ ٹرین بدل کر دوسری ٹرین پکڑنا ہے۔ اس نے کہا: کوئی حرج نہیں ۔ میں گارڈ کو بتا دیتا ہوں وہ آگے والے گارڈ سے بھی کہہ دے گا اور آپ کو کوئی زحمت نہ ہوگی۔ مولانا نے کہا: مجھے اس سے بھی آگے جانا ہے۔ گارڈ نے حیرت سے پوچھا : آخر آپ کہاں تک جائیں گے۔ ابھی تو آپ نے فرمایا تھا کہ آپ اعظم گڑھ جا رہے ہیں۔ مولانا نے کسی قدر خاموشی کے بعد کہا : مجھے آخرت تک جانا ہے، وہاں تک کون سا گارڈ میرے ساتھ جائے گا ۔
یہ معاملہ محض ریل کے سفر کا نہیں بلکہ تمام معاملات کا ہے۔ آدمی کا ہر معاملہ آخرت کا معاملہ ہے۔ دنیا میں کوئی "گارڈ"، وقتی طور پر آپ کا ساتھ دے سکتا ہے۔ مگر آخرت کی منزل پر پہنچ کر کوئی گارڈ ساتھ دینے والا نہیں۔ جس کا ذہن یہ ہو کہ مجھے آخرت تک جانا ہے وہ ہر اس چیز کو بے قیمت سمجھے گا جو آخرت میں بے قیمت ہو جانے والی ہو، خواہ آج وہ کتنی ہی قیمتی نظر آئے۔ اسی طرح وہ ہر اس چیز کو وزن دینے پر مجبور ہوتا ہے جو آخرت میں با وزن ثابت ہونے والی ہو، خواہ آج کی دنیا میں بظاہر وہ کتنی ہی بے وزن دکھائی دے ۔
آدمی حق کا انکار کرنے کے لئے آج خوبصورت الفاظ پالیتا ہے۔ مگر آخرت میں اس کو معلوم ہوگا کہ وہ اس کا ساتھ چھوڑ کر پیچھے رہ گئے ۔ آدمی طاقت کے بل پر بے انصافی کرتا ہے اور خوش ہوتا ہے کہ مظلوم اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ مگر آخرت میں وہ دیکھے گا کہ اس کی طاقت پیچھے کی دنیا میں رہ گئی ہے، آخرت میں وہ اس کا ساتھ دینے کے لئے موجود نہیں ہے۔ آدمی کے سازو سامان اس کو دھوکا دیتے ہیں اور وہ اپنے گھمنڈ کا مینار کھڑا کرتا ہے۔ مگر آخرت میں وہ پائے گا کہ اس کے وہ ساز و سامان اس سے بہت دور ہو چکے ہیں جن کے اوپر وہ گھمنڈ کیا کرتا تھا۔ مومن اور غیر مومن کا فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ غیر مومن یہ سمجھ کر زندگی گزارتا ہے کہ اس کو اسی دنیا میں رہنا ہے۔ اور مومن اس نفسیات کے ساتھ جیتا ہے کہ اس کو آخرت تک جانا ہے۔ نفسیات کا یہ فرق دونوں کی زندگیوں میں اتنا زیادہ عملی فرق پیدا کر دیتا ہے کہ ایک جہنم کا مستحق ہو جاتا ہے اور دوسرا جنت کا۔ ]
‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues