Al-Risala · April 1981 · page 21

مجھے آخرت تک جانا ہے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۲۱

اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہتر ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے۔ اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو۔ ہم کسی کے ذمہ وہی چیز لازم کرتے ہیں جس کی اسے طاقت ہو۔ اور جب بولو تو انصاف کی بات بولو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا ہو۔ اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ یہ چیزیں ہیں جن کا اللہ نے تمھیں حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔ اور اللہ نے حکم دیا کہ یہی میری سیدھی شاہراہ ہے۔ پس اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو اللہ کے راستے سے جدا کر دیں گے۔ یہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے تاکہ تم بچتے رہو۔ ۵۳ - ۱۵۳ یتیم کسی سماج کا سب سے کمزور فرد ہوتا ہے۔ وہ تمام اضافی اسباب اس کی ذات میں حذف ہو جاتے ہیں جو عام طور پر کسی کے ساتھ اچھے سلوک کا محرک بنتے ہیں۔ ”یتیم“ کے ساتھ ذمہ داری کا معاملہ وہی شخص کر سکتا ہے جو خالص اصولی, بنیاد پر باکردار بنا ہو نہ کہ فائدہ اور مصلحت کی بنیاد پر۔ یتیم کسی سماج میں حسن سلوک کی آخری علامت ہوتا ہے۔ جو شخص یتیم کے ساتھ خیر خواہانہ سلوک کرے وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بدرجہ اولیٰ خیر خواہانہ سلوک کرے گا۔

کائنات کی ہر چیز دوسری چیز سے اس طرح وابستہ ہے کہ ہر چیز دوسرے کو وہی دیتی ہے جو اس کو دینا چاہئے اور دوسرے سے وہی چیز لیتی ہے جو اس کو لینا چاہئے۔ یہی اصول انسان کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ جب وہ دوسرے انسان کے لئے ناپے تو ٹھیک ناپے اور جب تولے تو ٹھیک تولے۔ ایسا نہ کرے کہ اپنے لئے ایک پیمانہ استعمال کرے اور غیر کے لئے دوسرا پیمانہ۔

زندگی میں بار بار ایسے مواقع آتے ہیں کہ آدمی کو کسی کے خلاف اظہار رائے کرنا ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر خدا کا پسندیدہ طریقہ یہ ہے کہ آدمی وہی بات کہے جو انصاف کے معیار پر پوری اترنے والی ہو۔ کوئی اپنا ہو یا غیر ہو۔ اس سے دوستی کے تعلقات ہوں یا دشمنی کے تعلقات، ایسا شخص ہو جس سے کوئی فائدہ وابستہ ہے یا ایسا شخص ہو جس سے کوئی فائدہ وابستہ نہیں، ان تمام چیزوں کی پروا کئے بغیر آدمی وہی کہے جو فی الواقع درست اور حق ہے۔ ہر آدمی فطرت کے عہد میں بندھا ہوا ہے۔ کوئی عہد لکھا ہوا ہوتا ہے اور کوئی عہد وہ ہوتا ہے جو لفظوں میں لکھا ہوا نہیں ہوتا مگر آدمی کا ایمان، اس کی انسانیت اور اس کی شرافت کا تقاضا ہوتا ہے کہ اس موقع پر ایسا کیا جائے۔ دونوں قسم کے عہدوں کو پورا کرنا ہر مومن و مسلم کا فریضہ ہے۔ یہ تمام باتیں انتہائی واضح ہیں۔ آسمانی وحی اور آدمی کی عقل ان کے برحق ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ مگر ان سے وہی شخص نصیحت پکڑے گا جو خود بھی نصیحت پکڑنا چاہتا ہو۔ یہ احکام (۵۳- ۱۵۱) شریعت الہی کے بنیادی احکام ہیں۔ ان پر ان کے سیدھے مفہوم کے اعتبار سے عمل کرنا خدا کی سیدھی شاہراہ پر چلنا ہے۔ اور اگر تاویل اور موشگافیوں کے ذریعہ ان میں شاخیں نکالی جائیں اور سارا زور ان شاخوں پر دیا جانے لگے تو یہ ادھر اُدھر کے متفرق راستوں میں بھٹکنا ہے جو کبھی آدمی کو خدا تک نہیں پہنچاتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues

Printed page