Al-Risala · April 1981 · page 29

انسان ذمہ دار وجود ہے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۲۹

انسان ذمہ دار وجود ہے

دوستووسکی (۱۸۸۱-۱۸۲۱) مشہور روسی ناول نگار ہے۔ اس کا ایک کامیاب ناول "جرم وسزا"

ہے۔ اس ناول کا ہیرو ایک بد مزاج ، کر یہہ المنظر اور لاولد بوڑھی عورت کو اس لئے قتل کر دیتا ہے کہ اس کی بڑھتی ہوئی بے کار دولت کو اپنی اعلیٰ تعلیم کے حصول کا ذریعہ بناسکے۔ جب یہ واقعہ ہوتا ہے تو ناول کے تمام کردار اور خود ناول کا قاری اس کو مجرم قرار دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بڑھیا کی دولت اس کے قاتل کے لئے اتنی ہی مفید تھی جتنا کسی شیر کے لئے ہرن کا گوشت ہوتا ہے۔ مگر شیر ہرن کو مار کر اس کا خون پی جائے تو کسی کو یہ بات عجیب نہیں معلوم ہوتی اور نہ اس کے لئے کوئی تعزیری قانون بنانے کی ضرورت محسوس ہوتی۔ مگر اسی قسم کا فعل ایک انسان کرتا ہے تو ساری انسانیت چیخ اٹھتی ہے اور چاہتی ہے کہ قاتل کو اس کے فعل کی پوری سزا دی جائے۔

اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ انسان کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار وجود ہے۔ اس کے ہر فعل کو صحیح اور غلط کی ترازو پر تولا جاتا ہے۔ جب کہ جانور اپنے اندر اس قسم کا کوئی اخلاقی شعور نہیں رکھتے۔ ان کے یہاں صرف مفید اور غیر مفید کی تقسیم ہے نہ کہ صحیح اور غیر صحیح کی۔ انسان ایک اخلاقی حیوان ہے جب کہ حیوان صرف حیوان ۔

انسان اور حیوان کا یہ فرق بتاتا ہے کہ انسان اور حیوان کا معاملہ یکساں نہیں۔ حیوان کو اس کے اعمال کے لئے کسی اخلاقی عدالت میں کھڑا نہیں کیا جاسکتا۔ جب حیوان کو اعمال کے اخلاقی پہلوؤں کا شعور ہی نہیں تو اس کو اخلاق کی عدالت میں مجرم کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ مگر انسان کا معاملہ سراسر مختلف ہے۔ انسان کے اندر۔ معاملات کے بارہ میں اچھے اور برے کا احساس ہونا ہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ انسان اپنے اعمال کے لئے اخلاق کے سامنے جواب دہ ہے۔ جس فعل پر آدمی کا اپنا اندرونی ضمیر اس کو مجرم ٹھہرارہا ہو اس کے لئے باہر کی عدالت میں مجرم ٹھہرانا عین فطری ہے۔

تاہم موجودہ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں کوئی ایسی عدالت نہیں جو آدمی کا اخلاقی احتساب کر سکے۔ یہاں آدمی اپنی مجرمانہ کارروائی کو خوبصورت الفاظ میں چھپا سکتا ہے وہ قانونی نکتے نکال کر اپنے کو عدالت کی گرفت سے بچالیتا ہے۔ وہ زور وقوت کے ذریعہ اپنے خلاف تمام زبانوں کو بند کر دیتا ہے۔ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ انسان کا اخلاقی احتساب کرنے والی عدالت دنیا کے موجودہ حالات میں قائم نہیں کی جاسکتی۔ اس کے لئے ایک اور دنیا درکار ہے جہاں وہ تمام مواقع کامل صورت میں جمع ہوں جو اس پیچیدہ کام کے لئے ضروری ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues

Printed page